اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

زینب قتل کیس ، زیر حراست ملزم عمر کے اقرار جرم کے بعد اچانک ایسا کام ہو گیا کہ پولیس اسے بے گناہ قرار دینے پر مجبور ہو گئی،

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کو بڑا دھچکا، زیر حراست ملزم کا ڈی این اے میچ نہ ہو سکا، تفتیش ایک بار پھر بند گلی میں داخل ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں 7سالہ زینب کا قتل پنجاب پولیس کیلئے ڈرائونا خواب بن کر رہ گیا ہے۔ زینب قتل کیس کی تفتیش کرنےو الی جے آئی ٹی جو جلد ہی کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کادعویٰ کر رہی تھی

کو زیر حراست ملزم عمر فاروق کی ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد شدید دھچکا پہنچا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ زیر حراست ملزم عمر فاروق کا ڈی این اےمیچ نہیں ہو سکا۔ فرانزک سائنس ایجنسی سے موصول ہونیوالی رپورٹ کے بعد زینب قتل کیس کی تفتیش ایک بار پھر بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور پولیس اب وہیں کھڑی نظر آرہی ہے جہاں سے چلی تھی۔ واضح رہے کہ ملزم عمر فاروق کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا جس کی نشاندہی پر قصور میں ایک مکان پر چھاپے کے دوران دو ملزمان آصف اور بابا رانجھا کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ زیر حراست ملزم عمر فاروق نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے جس کی بنیاد پر پنجاب پولیس کے افسران زینب قتل کیس میں بڑی کامیابی حاصل ہونے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔خیال رہے کہ 7سالہ زینب کو قصور میں واقع اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر سپارہ پڑھنے کیلئے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کر لیا تھا جس کی لاش 3روز بعد قصور میں ایک کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ پولیس نے اغوا کی جگہ کے قرب و جوار سے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر کے جلد ہی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا تاہم تاحال پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کا مصدقہ اعلان سامنے نہیں آسکا جبکہ گزشتہ روز ایک ملزم کی تصویر بھی جاری کی گئی تھی جس سے متعلق دعویٰ سے کہا جا رہا تھا کہ ملزم نے زینب کو اغوا کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…