بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

زینب قتل کیس دبانے کیلئےپلان پر عمل درآمد شروع، ڈی سی قصور نے خصوصی ٹاسک ملتے ہی کیا کام شروع کر دیا

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس میں انصاف کے حصول کیلئے آواز بلند کرنے والے سکول اور کالجز کے ٹیچرز اور طلبہ انتظامیہ کی ہٹ لسٹ پر آگئے، ڈی سی قصور نے سکولوں کے لائسنس منسوخ کرنے کیدھمکی دیدی، اطلاع ملنے پر تمام سکولز کے مالکان میں غم و غصہ کی لہر پھیل گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے

کہ زینب قتل کیس میں انصاف کے حصول کیلئے آواز بلند کرنے والے اور سب سے زیادہ متحرک سکول اور کالجز کے ٹیچرز اور طلبہ کو انتظامیہ نے ہٹ لسٹ پر رکھ لیا ہے ۔ ڈی سی قصور نے خاموش نہ رہنے والے سکول اور کالجز کے ٹیچرز اور طلبہ کے سکولوں اور کالجز کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے جس پر اطلاع ملنے پر سکولز مالکان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ قصور شہر میں ایک بار پھر ڈی سی اور پولیس افسران کے روئیے کی بدولت کسی بھی وقت احتجاج کی آگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے جس پر قابو پانا انتظامیہ کے بس کی بات نہ ہو گی۔ ایک طرف تو وزیراعلیٰ پنجاب زینب قتل کیس کوجلد از جلد حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اس حوالے سے پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو خصوصی ہدایات دے چکے ہیں جبکہ دوسری جانب زینب اور دیگر بچیوں کے اندوہناک قتل کے بعد غم و غصہ میں بھرے قصور کے شہریوں کے ساتھ انتظامیہ کا رویہ ایک بار پھر کسی بڑے سانحے کی طرف شہر کو لے جاتا محسوس ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ نجی ٹی وی دنیانیوز کی رپورٹ میں پولیس نے آج بھی ایک مشتبہ شخص کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ جان کر گرفتار کیا ہے تاہم تاحال پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے زینب قتل کیس میں ملزم کی گرفتاری کے حوالے کوئی باقاعدہ اعلان سامنے نہیں آسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…