بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کا حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے رکاوٹیں فوری ہٹانے کا حکم

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے حمزہ شہبازشریف کے گھر کے قریب سکیورٹی بیریئرز لگائے پر سخت اظہارِ برہمی کرتے ہوئیکہا ہے کہ حمزہ شہبازشریف کون ہے میں کسی حمزہ کو نہیں جانتا، حمزہ شہبازشریف کی جان کو خطرہ ہے تو وہاں چلے جائیں جہاں انہیں تحفظ مل سکے، عوام کو پریشان مت کریں،میں چیف جسٹس ہوں لیکن میری رہائش گاہ کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں۔ اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سیکیورٹی بیریئرز لگا کر رستے بند کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

حکومت کی جانب سے سیکرٹری پنجاب زاہد سعید عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہبازشریف کے گھر کے قریب راستہ بند کرنے والا گیٹ ہٹا دیا گیا ہے اب صرف بیریئرز لگائے ہیں۔ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بیریئرز کیوں نہیں ہٹائے۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کی جان کو خطرہ ہے اس لئے زگ زیگ سکیورٹی بیریئرز لگائے گئے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے سخت اظہارِ برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ حمزہ شہبازشریف کون ہے میں کسی حمزہ کو نہیں جانتا۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب کے بیٹے اور ایم این اے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں کسی کو نہیں جانتا، ابھی حمزہ کو طلب کرکے پوچھ لیتے ہیں کہ ان کی جان کو کیا خطرہ ہے اور اگر ان کی جان کو خطرہ ہے تو اپنی رہائش گاہ تبدیل کریں۔ عوام کو پریشان مت کریں۔ یہ لوگ وہاں کیوں نہیں چلے جاتے جہاں کی ان کی جانوں کو خطرہ نہ ہو، میں چیف جسٹس ہوں لیکن میری رہائش گاہ کے باہر کوئی رکاوٹ نہیں۔چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کے گھر کے باہر لگی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ حمزہ شہباز کے گھر کے باہر کوئی سیکیورٹی اہلکار نیکر پہن کر یا ننگا نہاتا ہوا نظر نہ آئے، حمزہ کے گھر کے ارد گرد ہماری بہنیں اور بیٹیاں بھی رہتی ہیں اگر آئندہ کوئی شکایت آئی تو سخت ایکشن لوں گا اور رکاوٹیں دیکھنے خود اپنی کار پر دورہ کروں گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے حمزہ شہباز کے گھر کے باہر سے فوری رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کروادی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…