جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ کیس میں وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے ٗفاروق ستار

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ نقیب اللہ کے معاملے پر صرف راؤ انوار پر ملبہ ڈالنے سے مسئلہ نہیں ہوگا اس میں وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم نے کیا تھا ٗہم نے شہر میں امن قائم کرنے کیلئے اتنی بڑی قربانی دی

اور اس سے امن قائم ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے اوربے بنیادمقدمات ہیں، یہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ کراچی کے ووٹ ایم کیوایم پاکستان کے پاس ہیں لیکن شہر سے متعلق اجلاسوں میں میئر کراچی اور اپوزیشن لیڈر کو نہیں بلایا جاتا۔مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ سے متعلق بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اس معاملے پر

اب تمام جماعتیں مذمت کررہی ہیں، غلط فعل کی کوئی حمایت نہیں کرے گا، سب اس کی مذمت کریں گے، اس غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوںنے کہاکہ یہ پہلا واقعہ نہیں، اس کا لائسنس کس نے دیا، اگر صوبائی حکومت کی خاموشی نے دیا تو صرف راؤ انوار کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے بلکہ وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کے خلاف بھی ہونی چاہیے ان سے استعفے کا مطالبہ ہونا چاہیے۔

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ حکومت کی بے حسی اور خاموشی تائید ہے، سارا ملبہ ایک پولیس افسر پر نہ ڈالا جائے اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ٗایک کو ہٹا دیں گے تو دوسرا آجائے گا اور اسے ٹاسک دیا جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ ٹاسک دے کون رہا ہے، اس لیے سندھ حکومت کا احتساب ہونا چاہیے، عدالتوں کو اس پر بھی از خود نوٹس لینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…