جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

10سال کی بچی 5لاکھ جبکہ 11سالہ 3لاکھ روپے میں خریدیں پاکستان میں کمسن بچیوں کی منڈیاں لگ گئیں، پنجاب کے کس شہرمیں یہ مذموم دھندہ جاری ہے، اقرار الحسن کے دل دہلا دینے والے انکشافات

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اور سندھ میں کمسن بچیوں کی منڈیاں لگ گئیں، 10سال کی لڑکی 5لاکھ روپے میں جبکہ 11سال کی لڑکی 3لاکھ روپے میں فروخت ہونے لگی، نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’سر عام‘‘میں دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام’’سر عام‘‘میں میزبان اقرار الحسن نے

انکشاف کیا ہے کہ پنجاب کے علاقے کمالیہ میں ایک منظم گروہ کمسن لڑکیوں کی منڈی لگا کر بیٹھا ہے اور ان کی فروخت کا مذموم دھندہ کر رہا ہے۔ یہ گروہ 10سال کی لڑکی 5لاکھ روپے میں جبکہ 11سال کی لڑکی 3لاکھ روپے میں فروخت کر رہا ہے ۔ اقرار الحسن جو پورے ملک میں ’’اسٹنگ آپریشن‘‘کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں نے ایسا ہی ایک آپریشن کمالیہ کے شہر میں کیا جس میں اس مذموم دھندے کا انکشاف ہوا۔ اقرار الحسن اور ان کی ٹیم نے نہایت ہوشیاری اور خفیہ کیمروں کے ذریعے مجرموں کو بے نقاب کیا۔یہ گروہ کمسن لڑکیوں کو بغیر نکاح کے خریداروں کے حوالے کر دیتا ہے اور خریداروں کیلئے ان لڑکیوں سے نکاح کی کوئی شرط نہیں بس قیمت ادا کر کے خریدار لڑکیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح لے جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اقرار الحسن ’’سر عام‘‘کے  ذریعے اپنے اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے سندھ کے شہر حیدر آباد اور جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں بھی اسی طرح کی منڈیوں کا انکشاف سامنے لا چکے ہیں جہاں ہر عمر کی لڑکی بکتی دکھائی گئی تھی۔اس دوران ملزمان نے اقرار الحسن اور ان کی ٹیم پر پتھرائو کیساتھ جان لیوا حملے بھی کئے جس کے باعث انہیں ہسپتال بھی جانا پڑ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…