جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں تیارہونیوالی گاڑیوں کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا،استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پربھی پابندی عائدکردی گئی

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) ملک میں بننے والی گاڑیوں کی قیمت میں ایک سال کے دوران 39 ہزار روپے سے 6 لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔ ڈیلرز کے مطابق جنوری تا دسمبر 2017 کے دوران ایکس ایل آئی کی قیمت ایک لاکھ 55 ہزار روپے اضافے سے 18 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی۔ڈیلر نے بتایا کہ ہنڈا اکارڈ کی قیمت 6 لاکھ روپے اضافے سے 1 کروڑ 12 لاکھ 67 ہزار روپے کر دی گئی۔مہران سی ایکس آر کی قیمت 39 ہزار اضافے

سے 7 لاکھ 42 ہزار روپے ہو گئی۔ پرانی کاروں کے امپورٹرز کے مطابق قیمتوں میں اضافہ سراسر منافع خوری جبکہ کار مینوفیکچرز کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کے سبب قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔دریں اثناء حکومت نے استعمال شدہ کاروں کی درآمد کیلئے قوانین کو حتمی شکل دے دی جس کے تحت ملک میں 13 سال بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی غیر رسمی کمرشل درآمد ختم کردی گئی ہے۔انڈسٹری ذرائع کے مطابق حکومت نے نئی پالیسی میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کے ذاتی اکاونٹ سیر قم منتقلی کے ثبوت کو لازمی قرار دے دی ہے۔موٹر ڈیلرز کے مطابق اس عمل سے 13 سال بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد بند ہو جائے گی جبکہ پہلے ہی جنوری میں اب تک کوئی گاڑی درآمد نہیں کی گئی ہے۔موٹر ڈیلرز ایسو سی ایشن کے چیرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق پابندی کے فوراً بعد مقامی گاڑیوں کو اسمبل کرنے والوں نے قیمتوں میں 60 ہزار روپے تک اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے یہ پالیسی قابل عمل نہ ہو گی۔ ملک میں بننے والی گاڑیوں کی قیمت میں ایک سال کے دوران 39 ہزار روپے سے 6 لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔ ڈیلرز کے مطابق جنوری تا دسمبر 2017 کے دوران ایکس ایل آئی کی قیمت ایک لاکھ 55 ہزار روپے اضافے سے 18 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی۔ڈیلر نے بتایا کہ ہنڈا اکارڈ کی قیمت 6 لاکھ روپے اضافے سے 1 کروڑ 12 لاکھ 67 ہزار روپے کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…