جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب محسود مجرم، تاوان کیلئے تاجر کو اغوا کیا، پی ٹی آئی والے پروپیگنڈہ کر کے پھنسانا چاہتے ہیں،ا ن کائونٹر سپیشلسٹ ایس ایس پی رائو انوار نے ثبوت سامنے لانے کا اعلان کر دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایس ایس پی ملیر رائو انوار پولیس مقابلے میں نقیب کی ہلاکت کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش، نقیب محسود جرائم پیشہ، 2014میں مفرور ہوا، تھانہ سچل میں مقدمہ درج ہوا، تاوان کیلئے میمن تاجر کو اغوا کیا،مجھے سیاسی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہاہے، حلیم عادل شیخ کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا پر میرے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،

پولیس افسر کی میڈیا سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار آج پولیس مقابلے میں نقیب محسود ہلاکت کیس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے قبل ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 100فیصد پتہ تھا کہ نقیب جرائم پیشہ ہے۔ نقیب محسود کے خلاف ثبوت موجود ہیں جنہیں پیش کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014میں نقیب محسود مفرور ہوااس کے خلاف تھانہ سچل میں مقدمہ درج ہے جبکہ نقیب نے تاوان کیلئے میمن تاجر کو اغوا بھی کیا جس کے بعد پولیس مقابلے میں نور عالم اور زاہد اللہ سمیت نقیب کے چار ساتھی مارے گئے۔ رائو انوار نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حلیم عادل شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا جس پر پی ٹی آئی والے نقیب محسود کو بنیاد بنا کر میرے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی میں ایس ایس پی ملیر رائو انور کی سربراہی میں ایک پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود مارا گیا تھا جس کے بعد میڈیا پر خبر آنے پر اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ نقیب اللہ محسود نے نسیم اللہ کے نام سے شناختی کارڈ بنوا رکھا تھا جبکہ اس کے خلاف تھانہ سچل میں مقدمہ بھی درج تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…