اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

ٹرمپ کی بیان بازی اورپاک امریکہ کشیدگی میں اضافہ افغان مہاجرین پر بھاری پڑ گیا،14لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدرکرنے کافیصلہ،کھلبلی مچ گئی

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی) وفاقی حکومت نے پاکستان میں مقیم 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک ہنگامی پلان بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اس حوالے سے ریاستی اور سرحدی علاقوں (سیفران) کی وزارت کے ایک سینئر اہلکار نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ حکومت ملک میں مقیم پناہ گزینوں کے قیام میں مزید توسیع نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ 31 جنوری کے بعد ان کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی اور پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس جانا پڑے گا۔خیال رہے کہ پناہ گزینوں کی قانونی طور پر

قیام کی مدت گزشتہ برس 31 دسمبر 2017 کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے ان کے ملک میں قیام کو صرف ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا تھا۔ابتدائی پلان کے مطابق سیفرون کی وزارت نے رجسٹرڈ پناہ گزینوں کے قیام میں ایک سال کی توسیع کا مشورہ دیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کو ایک سال کی توسیع نہیں دی جائے گی اس حوالے سے پناہ گزینوں کے چیف کمشنر سلیم خان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام وفاقی کابینہ کو معاملہ بھیجنے سے پہلے ان کی واپسی کا پلان تیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت کے بعد پناہ گزینوں کی واطن واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد ہو گا۔حکام کی جانب سے ایک اندازے کے مطابق 25 لاکھ سے زائد افغان شہری ہمارے ملک میں رہائش پذیر ہیں جس میں رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی تعداد 14 لاکھ ہے اس کے علاوہ حکومت نے گزشتہ برس اگست میں ایک طویل مہم کے ا?غاز کے بعد 7 لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کو رجسٹرڈ کیا تھا۔وزارتِ سیفرون ذرائع کا کہنا تھا کہ ہنگامی پلان چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام اور سیاسی قیادت کی مشاورت کے بعد تیار کیا جائے گا۔اس حوالے سے وزارت کے ایک اور اہلکار نے بتایا کہ لاکھوں افغان کی واپسی آسان کام نہیں ہے اور اس میں کم از کم ایک سال درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سہ فریقی معاہدے کے تحت حکومت پناہ گزینوں کو زبردستی پاکستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتی ٗان کا کہنا تھا کہ شماریات کا یہ منصوبہ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے ایک روڈمیپ فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہنگامی پلان تین حصوں پر مشتمل ہوگا، جس میں فہرستوں کی تیاری، پناہ گزینوں کے رہائشی علاقوں کی شناخت اور انہیں کیسے واپس بھیجا جائے شامل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…