جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران جانے والے زائرین کے لیے خوشخبری، پاکستان اور ایران کے درمیان مسافر ٹرین چلانے کا فیصلہ

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان اور ایران کے ریلوے حکام نے دونوں ممالک کے درمیان پندرہ روزہ مسافر ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹرین مشہد اور کُم سے چل گی اور محرم سے قبل اس کا اجراء ہوگا۔ امن و امان کی صورت حال بہترہونے پر پندرہ روزہ مسافر ٹرین کی بحالی کا فیصلہ وزارت ریلوے میں پاکستانی اور ایرانی ریلوے ماہرین کے مشترکہ اجلاس میں ہوا۔ایرانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل زاہدان ریلوے ماجد آرجونی نے کی،اجلاس میں تاجروں کے مطالبہ پر کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان 15مال

گاڑیاں چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ایران کی جانب سے مجوزہ تاریخوں کے بارے میں بات چیت، تحفظ اور امن وامان کے پیش نظر مال برداری کی بکنگ کوئٹہ کے لئے زاہدان سے کرنے کو ترجیح دی گئی، لیکن امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے باعث پاکستان ریلوے ڈویژن اب اس پوزیشن میں ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں مال بھجوایا جا سکتاہے۔ سپنز اور تفتان (ایم ایل تھری) سیکشن کی اپ گریڈیشن بھی زیر بحث آئی،(ایم ایل تھری)کی موجودہ فزیبلٹی سٹڈی کے لئے ”درخواست برائے تجویز ” جاری ہے اور 2018 ء میں مکمل ہوگی۔ اپ گریڈیشن میں ٹریکس کے ڈھانچے کی تبدیلی 183 ڈپس کی پلوں میں تبدیلی، پرانے پلوں کی تعمیر اور مکمل سگنل شامل ہیں۔ عام طور پر ایران سے ایل پی جی براستہ سڑک برآمد کی جاتی ہے۔پاکستان ریلوے نے ایران سے ایل پی جی کے خصوصی کنٹینرز منگوانے کی تجویز پیش کی۔ پاکستان نے ایران کو مال برداری پر خصوصی مراعات دینے کی پیش کش کی تاکہ ریلوے کے ذریعہ تجارت کو فروغ ملے۔ ای سی او اسلام آباد، تہران، استنبول بھی زیر بحث آئے۔ریلوے حکام نے کہا کہ ٹرین کا راستہ استنبو ل سے کوسیکوئے تبدیل ہونے کے باعث تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے ایران کو یہ درخواست کی گئی کہ وہ ای سی او سیکرٹریٹ سے ای سی او ٹرین کو کوسیکوئے جانے کی بجائے استنبول کے لئے کہیں۔ پاکستان ریلوے نے بتایا

کہ دونوں مابین ہونے والا 1959 ء کا معاہدہ کی تجدیدبھی زیر بحث آئی ۔ پاکستان ریلوے تفتان سیکشن سے کمیونیکیشن کے لئے میگنیٹا فون پر بھی نظر ثانی کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان ریلوے سے مکینیکل اور سول مواد برآمد کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اجلاس کی صدارت سیکریٹری ریلوے بورڈ زبیرشفیع غوری نے کی جبکہ ڈی ٹیکنیکل منور شاہ، ڈی جی آپریشن آغا وسیم، ڈی سی پی نور الدین، ڈی ایس کوئٹہ عامر بلوچ، اے ڈی ٹی ون آسیہ بیگ، اے ڈی سی 2 عابدہ مریم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…