جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر خودکش حملے کی ذمہ داری خطرناک تنظیم کے ذیلی گروپ نے قبول کرلی،راؤ انوار بکتر بند گاڑی کی وجہ سے بچ نکلے

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) کراچی کے علاقے ملیر میں ایس ایس پی راؤ انوار پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے۔ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے بتایا کہ حملہ کالعدم تحریک طالبان کے ’کے ٹی ایس‘ گروپ نے کیا اور طالبان کی جانب سے حملہ ا?ور کی تصویر بھی جاری کردی گئی ہے۔گزشتہ روز ایس ایس پی راؤ انوار کی گاڑی کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ راؤ انوار سیکیورٹی کے پیش نظر بکتربند گاڑی میں تھے

جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے جبکہ پولیس نے برقت کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار کے 2 ساتھیوں کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا تھا، جبکہ اس واقعے میں کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔واضح رہے 2015 میں بھی راؤ انوار پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے جب کہ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کوہلاک کردیا تھا۔دریں اثناء ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر مبینہ خود کش حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔حملے میں دہشتگردی۔مقابلے اور قاتلانہ حملے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ پولیس نے ایس ایس پی راو انوار پر گزشتہ روز ہونے والے خود کش حملے کی ایف آئی آر نمبر 8/2018 سرکار مدعیت میں درج کر لی۔مقدمے میں قاتلانہ حملہ، مقابلہ، املاک کو نقصان پہنچانا ، ایکسپلوژیو اور دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،واضح رہے کہ ملزمان میں سے ایک نے ایس ایس پی ملیر راو انوار پرخودکش حملہ کیا تھا،حملے میں ایس ایس پی محفوظ رہے۔جبکہ حملہ آور کے دو ساتھی مقابلے میں مارے گئے تھے،ہلاک ملزمان کے قبضے سے دو نائن ایم ایم پستول ملے ہیں، ہلاک ملزمان کی شناخت فوری طور پر نہیں ہوسکی ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…