جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زینب قتل میں اہم شخصیت کے ملوث ہونے کا انکشاف،با اثر شخص اغوا کاروںکے ذریعے بچیوں کو ہوس پوری کرنے کیلئے اغوا کرواتا ہے، پولیس افسرانکے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ٹیپ لیک ہو گئی

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل میں اہم شخصیت کے ملوث ہونے کا انکشاف، اب تک 7بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنا چکا، بچیوں کو اغوا کرانے کیلئے کارندے رکھے ہوئے ہیں، پنجاب پولیس کے دو افسران کے درمیان ہونیوالی گفتگو کی آڈیو ٹیپ لیک ہو گئی، ملزم کا دوسرا خاکہ بھی جعلی نکلا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کے دو افسران کے درمیان ہونیوالی گفتگو کی آڈیو ٹیپ لیک

ہو گئی ہے جو اس وقت تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس آڈیو ٹیپ میں دونوں افسران کی گفتگو میں انکشاف ہوا ہے کہ قصور میں 12بچیوں میں سے 8کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والا ایک ہی شخص ہے اور یہ شخص انتہائی بااثر اور امیر آدمی ہے کیونکہ بچوں کو اغواء کرنیوالا گروہ الگ ہے اور زیادتی کرنیوالا ایک شخص الگ ہے تفتیشی افسران کی طرف سے افسران کو تجویز دی گئی ہے کہ قاتل تک پہنچنے کیلئے قصور سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات جن میں ایم پی اے اور ایم این اے اور وزراء بھی شامل ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں سوشل میڈیا پر موجود آڈیو ٹیپ میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والا عادی مجرم ہے اور ایسے حملے بچوں پر مزید بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ خطرناک قاتل کو بچوں کے ساتھ زیادتی کا نشہ لاحق ہے، پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اغواء کار قصور شہر سے باہر سے آتے ہیں اور بچوں کو اغوا کرکے قاتل تک پہنچا کر غائب ہوجاتے ہیں واضح رہے کہ ایک سال کے دوران جنسی درندگی کے قصور میں ہونیوالے 12واقعات میں سے 8 میں مماثلت ہے۔دوسری جانب اس آڈیو ٹیپ سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب پولیس نے دوسری بار ملزم کا جو خاکہ جاری کیا ہے وہ بھی جعلی ہے اور پہلے سے مطلوب شخص کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…