جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’بس بہت ہو گیا، زینب قتل کیس میں بڑا فیصلہ کر لیا گیا‘‘ قاتل کو پکڑنے کیلئےایسا افسر اور اس کی ٹیم منگوالی گئ کہ جس نے صرف 7دن میں اسی طرح کا کیس حل کر کے سب کو حیران کر دیا تھا

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) زینب قتل کیس نے جہاں پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہاں پنجاب پولیس کی بھی چولہیں ہل کر رہ گئی ہیں۔ قاتل کی تاحال گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی اور وہ بدستور قانون کی گرفت سے دور ہے۔ ایسے میں عوامی دبائو اور پنجاب پولیس کی ساکھ دائو پر لگی دیکھ کر زینب قتل کیس کی جے آئی ٹی نے تفیش کیلئے ڈی پی او عمر سعید ملک کی سربراہی میں

وہاڑی پولیس سے ٹیم طلب کر لی ہے۔ واضح رہے کہ وہاڑی پولیس کی یہ وہی ٹیم ہے جس نے ایک ماہ قبل تحصیل میلسی میں کمسن زہرہ زیادتی و قتل کیس کو 7دن کے اندر ٹریس کر لیا تھا۔ میلسی میں ملزم آصف نے 12ربیع الاول کو 7سالہ ننھی زہرہ کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے اس کی لاش نہر کے قریب گڑھا کھود کر دفن کر چھپا دی تھی۔ واقعہ کا علم ہونےپر میلسی شہر میں بھی شدید احتجاج ہوا تھا جس پر ڈی پی او نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر 12دسمبر کو زہرہ کے قاتل کو گرفتار کر لیا تھا مگر بعد ازاں 14دسمبر کو پتہ چلا کہ ننھی زہرہ کا قاتل ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ ننھی زہرہ کے قاتل آصف سے متعلق انکشاف ہوا تھا کہ ملزم بچوں سے جنسی زیادتی کا عادی مجرم تھا اس سے قبل بھی ایک بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا چکا تھا جس کی پاداش میں 7سال قید بھگت کر 2016میں جیل سے رہا ہوا تھا۔خیال رہے کہ زینب قتل کیس میں پولیس اور دیگر حساس اداروں کی تحقیقاتی ٹیمیں بھی دن رات قاتل کی تلاش میں مصروف عمل ہیں اور اس سلسلے میں مختلف طریقہ کار پر علیحدہ علیحدہ عمل کیا جا رہا ہے جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ زینب کا قاتل عنقریب قانون کی گرفت میں ہو گا۔زینب کے والد کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پہلی بار پولیس کی تفتیش اور تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

 

دائیں جانب ننھی مقتولہ زہرہ ، درمیان میں ڈی پی او وہاڑی عمر سعید ملک جبکہ بائیں جانب ملزم آصف کی فائل فوٹو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…