جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان، روڈ نیٹ ورک کے لحاظ سے دنیا کا اکیسواں بڑا ملک

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کا تینتیسواں سب سے بڑا ملک پاکستان اپنے روڈ نیٹ ورک کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں اکیسویں نمبر پر ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت اس جنوبی ایشیائی ریاست کا مجموعی رقبہ آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر یا تین لاکھ اکتالیس ہزار مربع میل کے قریب بنتا ہے۔

شمال میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے لے کر جنوب میں بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے اس ملک میں پختہ سڑکوں، ہائی ویز، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز پر مشتمل قومی روڈ نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی تقریبا دو لاکھ چونسٹھ ہزار کلو میٹر ہے۔پاکستان میں اس کے ہمسایہ ملک چین کی مدد سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و توسیع کے پینتالیس ارب ڈالر سے زائد مالیت کے جس منصوبے پر کام جاری ہے، وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یا چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کہلاتا ہے، جسے مختصرا سی پیک بھی کہتے ہیں، اس منصوبے کے تحت ملک میں کئی نئی موٹر ویز اور قومی شاہراہیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق آج سے چار عشرے قبل پاکستان میں وفاقی حکومت نے پانچ بہت اہم بین الصوبائی شاہراہوں کو وفاقی انتظام میں لے کر انہیں نیشل ہائی ویز قرار دے دیا تھا جن کی دیکھ بھال کے لیے ایک نیشنل ہائی وے بورڈ بھی قائم کر دیا گیا تھا۔انیس سو اکانوے میں حکومت پاکستان نے پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس نئے ادارے کو نیشنل ہائی ویز کی منصوبہ بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور مرمت کی ذمے داری سونپ دی گئی۔ساتھ ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ملک کے شمالی علاقوں میں ان اہم شاہراہوں اور ہائی ویز سے متعلق تمام ذمے داریاں بھی اس این ایچ اے کے حوالے کر دی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…