جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 3 کھرب 34 ارب 78کروڑ جاری کر دیئے

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی ) وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر اب تک 3 کھرب 34 ارب 77 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیئے ،

حکومت نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں کے لئے مجموعی طور پر 10 کھرب ایک ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ۔پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق حکومت نے پرائم منسٹر یوتھ اور ہنر مند پروگرام کیلئے 9ارب 19 کروڑ، عارضی طورپر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لئے 42 ارب 7 کروڑ، ایرا کے لئے ایک ارب 80 کروڑ، پائیدار ترقیاتی اہداف کی لئے 30 ارب، سیفران فاٹا کے لئے 10 ارب55 کروڑ، گلگت بلتستان بلاک کے لئے 7 ارب70کروڑ، اے جے کے بلاک کیلئے 14ارب71 کروڑ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے ایک کھرب 16 ارب38 کروڑ، واپڈا پاور سیکٹر 19 ارب 28 کروڑ، پانی و بجلی ڈویژن کیلئے 10ارب 73کروڑ، سپارکو کیلئے ایک ارب، سائنس ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لئے 30کروڑ45 لاکھ، شماریات ڈویژن کے لئے 6 کروڑ، ریونیو ڈویژن 23کروڑ، ریلویز ڈویژن 15ارب 24 کروڑ، پورٹس اینڈ شپنگ ڈویژن کی لئی89 کروڑ51 لاکھ، منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات ڈویژن کی لئے ایک ارب 73 کروڑ، پٹرولیم و قدرتی وسائل کی لئی4 ارب16 کروڑ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی لئی3 ارب 64کروڑ، ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کی لئے 8 ارب 9کروڑ، نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ ڈویژن 40کروڑ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 11ارب 62کروڑ، داخلہ ڈویژن 5 ارب20کروڑ، فنانس ڈویژن 8ارب94کروڑ26 لاکھ،

ایوی ایشن ڈویژن96کروڑ48 لاکھ، کیڈ ڈویژن1 ارب 93کروڑ، کامرس ڈویژن 24کروڑ، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن 32کروڑ 60 لاکھ اور ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لئے 6ارب 26 کروڑ روپی سے زائد مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…