جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں ہونیوالا واقعہ سیریل کلنگ کی مثال ہے، پولیس لاتعلق نظر آئی،زینب کیس کے ملزم کو مقابلے میں نہ مارنا، اعتزاز احسن نے پولیس کوانتباہ کردیا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

قصور(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، یہ واقعہ سیریل کلنگ کی مثال ہے، سیریل کلنگ میں ایک ہی شخص اغواء ، زیادتی اور قتل کرتا ہے، اس معاملے میں پولیس لاتعلق نظر آئی، قصور کے شہریوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ساری دنیا کی توجہ واقعہ پر دلوائی، قصور والوں نے معاملے کو اجاگر کر کے بڑی بیماری کی تشخیص کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی معصوم بچی زینب کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ 3ہزار پولیس اہلکار شریف خاندان کی سکیورٹی پر مامور ہیں، شہباز شریف نے بزدلوں کی طرح رات کے وقت آ کر تعزیت کی ہے، سارا تحفظ وزیر اعلی کے لئے ہے، ہم نے امن کے ساتھ رہنا ہے، کوئی سیاست نہیں کر رہے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹھیک ملزم گرفتار ہو، شہباز شریف پھرتی دکھائیں ،ملزم کو کسی جعلی پولیس مقابلے میں مارا نہ جائے اور ملزم کے ڈی این اے کی رپورٹ غلط نہ ہو کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ اصلی ملزم پکڑا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے 2 مظاہرین شہید ہوئے، گھٹنے کی پوزیشن میں اس وقت فائرنگ کی جاتی ہے جب سامنے سے بھی فائرنگ ہو رہی ہو، فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی این اے سے پتا چلتا ہے کہ سارے واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں، قصور واقعہ سیریل کلنگ کی مثال ہے، سیریل کلر کو گرفتار کرنا مشکل نہیں ہوتا، قصور میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز کے ملزم چھوڑ دیئے گئے، بچوں سے زیادتی کے قانون میں کوئی سقم نہیں ہے، کیس عدالت میں جانے سے پہلے کا کام پولیس کا ہوتا ہے، پنجاب کی پولیس پاکستان کی بہترین پولیس ہوتی تھی لیکن شریف برادران نے پولیس کو گھر کا ملازم بنا لیا ہے، پولیس کا کام ثبوت اکٹھے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ زینب کے معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی شہریوں نے دیں، پولیس ثبوت اکٹھے نہیں کرتی تو عدالت میں بھی کیس کمزور ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…