بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

زینب قتل کیس کا سب سےبڑا دل دہلا دینے والا انکشاف، بچی کی لاش قاتل سڑک پر پھینک کر گیا اسے اٹھا کر کچرے میں کس نے پھینکا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس میں جہاں پولیس کی نالائقی اور نا اہلی سامنے آئی وہیں اب پولیس کی بے حسی اور زینب کی لاش کیساتھ انسانیت سوز سلوک کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر میں خود پولیس نے پھینکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خفیہ ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قتل کے بعد درندہ صف شخص نے زینب کی

لاش تھانہ صدر قصور کی حدود میں واقع سڑک کنارے پھینکی تھی، ننھی بچی کے اغوا کا شور مچنے پر تھانہ صدر قصور کے اہلکاروں نے زینب کی لاش اٹھا کر تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں واقع کچرے کے ڈھیر میں پھینک کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی اس تمام کارروائی کا ثبوت مٹانے کیلئے پیروالا چوک میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی ضائع کر دی جبکہ دو کیمروں کی فوٹیج ضائع ہونے سے بچ گئی جسے حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام ’’پکار‘‘میں اینکر نے جب زینب کو ڈھونڈنے والے ایک لڑکے سے سوال کیا تو اس نے بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس جگہ کا چپہ چپہ چھان مارا مگر ہمیں وہاں زینب کی لاش نظر نہیں آئی ، یہ لاش وہاں بعد میں پھینکی گئی ہے اور اس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ہم وہاں ڈھونڈ کر گئے تو اس کے کچھ دیر بعد لاش وہاں کہاں سے آگئی۔واضح رہے کہ زینب کی لاش آج سے تین روز قبل کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی اور اس وقت بھی اس وقت کے ڈی پی او نے لاش ملنے پر زینب کے چچا سے ڈھونڈنے والے کانسٹیبل کو 10ہزار انعام دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس روئیے کے خلاف قصور شہر میں مظاہرے اور پرتشدد احتجاج بھی ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…