جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زینب قتل کیس کا سب سےبڑا دل دہلا دینے والا انکشاف، بچی کی لاش قاتل سڑک پر پھینک کر گیا اسے اٹھا کر کچرے میں کس نے پھینکا

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس میں جہاں پولیس کی نالائقی اور نا اہلی سامنے آئی وہیں اب پولیس کی بے حسی اور زینب کی لاش کیساتھ انسانیت سوز سلوک کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر میں خود پولیس نے پھینکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خفیہ ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ قتل کے بعد درندہ صف شخص نے زینب کی

لاش تھانہ صدر قصور کی حدود میں واقع سڑک کنارے پھینکی تھی، ننھی بچی کے اغوا کا شور مچنے پر تھانہ صدر قصور کے اہلکاروں نے زینب کی لاش اٹھا کر تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں واقع کچرے کے ڈھیر میں پھینک کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی اس تمام کارروائی کا ثبوت مٹانے کیلئے پیروالا چوک میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی ضائع کر دی جبکہ دو کیمروں کی فوٹیج ضائع ہونے سے بچ گئی جسے حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام ’’پکار‘‘میں اینکر نے جب زینب کو ڈھونڈنے والے ایک لڑکے سے سوال کیا تو اس نے بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس جگہ کا چپہ چپہ چھان مارا مگر ہمیں وہاں زینب کی لاش نظر نہیں آئی ، یہ لاش وہاں بعد میں پھینکی گئی ہے اور اس نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ہم وہاں ڈھونڈ کر گئے تو اس کے کچھ دیر بعد لاش وہاں کہاں سے آگئی۔واضح رہے کہ زینب کی لاش آج سے تین روز قبل کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی اور اس وقت بھی اس وقت کے ڈی پی او نے لاش ملنے پر زینب کے چچا سے ڈھونڈنے والے کانسٹیبل کو 10ہزار انعام دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس روئیے کے خلاف قصور شہر میں مظاہرے اور پرتشدد احتجاج بھی ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…