بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

قصور میں اس سے پہلے جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی ،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں ایک سات سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل، بعدازاں پولیس تحقیقات میں سست روی اور بچی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد جیسی صورت حال اقتدار پر براجمان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام ہونا چاہیے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے

ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔ پنجاب حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ دو روز قبل مظاہرین پر گولیاں کیسے اور کیوں چلائی گئیں۔ فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس سے پہلے قصور میں جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی اور اِن گھناؤنی برائیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی تشکیل دینا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ کیا صوبائی حکومتیں بتا سکتی ہیں کہ اُنہوں نے اس حوالے سے اب تک کیا پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس پر قابو پانے کے لیے فوری ، سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…