ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

قصور میں اس سے پہلے جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی ،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں ایک سات سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل، بعدازاں پولیس تحقیقات میں سست روی اور بچی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد جیسی صورت حال اقتدار پر براجمان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام ہونا چاہیے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے

ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔ پنجاب حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ دو روز قبل مظاہرین پر گولیاں کیسے اور کیوں چلائی گئیں۔ فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس سے پہلے قصور میں جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی اور اِن گھناؤنی برائیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی تشکیل دینا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ کیا صوبائی حکومتیں بتا سکتی ہیں کہ اُنہوں نے اس حوالے سے اب تک کیا پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس پر قابو پانے کے لیے فوری ، سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…