پیر‬‮ ، 27 جولائی‬‮ 2026 

قصور میں اس سے پہلے جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی ،انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں ایک سات سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل، بعدازاں پولیس تحقیقات میں سست روی اور بچی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد جیسی صورت حال اقتدار پر براجمان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام ہونا چاہیے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے

ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔ پنجاب حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ دو روز قبل مظاہرین پر گولیاں کیسے اور کیوں چلائی گئیں۔ فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس سے پہلے قصور میں جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے اُن سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی اور اِن گھناؤنی برائیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی تشکیل دینا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ کیا صوبائی حکومتیں بتا سکتی ہیں کہ اُنہوں نے اس حوالے سے اب تک کیا پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس پر قابو پانے کے لیے فوری ، سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا’’سانحہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…