ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

میرا نام زینب ہے، مجھے آم پسند ہیں، زینب کی آخری تحریر والدین عمرہ پر گئے تو تصویر بنوائی ، شہباز شریف بروقت کارروائی کرتے تو میری بہن بچ جاتی، بہن فاریہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو کھری کھری سنا دیں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا اندوہناک قتل ہر آنکھ کو اشکبار کئے ہوئے ہے۔ زینب کے والدین اور اہل خانہ اس وقت دکھ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ غم ایسا ہے کہ صبر کسی طور نہیں آتا۔ زینب ایک ذہین

اور لائق بچی تھی۔ زینب کی سکول نوٹ بکس دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا ہوم ورک بروقت اور مکمل کرنے کی عادی تھی۔ اس کی اردو کی نوٹ بک پر اس کی آخری تحریر جو اسے ہوم ورک کیلئے ملی تھی ’’میری ذات‘‘تھی ۔ اپنی ذات سے متعلق ہوم ورک کیلئے ملنے والے مضمون میں زینب نے لکھا ہے کہ ’’میرا نام زینب ہے ، میں پاکستانی ہوں، میں قصور شہر کی رہائشی ہوں، مجھے آم بہت پسند ہیں، میرے ابو کا نام محمد امین ہے۔ زینب کی والدہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زینب بھی ہمارے ساتھ عمرے پر جانا چاہتی تھی۔ وہ ہمیں رخصت کرنے ائیرپورٹ بھی آئی جہاں میں نے اپنی بیٹی سے آخری گفتگو میں اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی بار عمرے پر اسے بھی ساتھ لے کر جائوں گی۔ والدین عمرے پر گئے تو زینب نے اپنی تصویر بنوائی جو کہ اس کی زندگی کی آخری تصویر ثابت ہوئی۔ زینب کی بڑی بہن فاریہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اتنے اچھے ہوتے تو زینب آج ہمارے ساتھ ہوتی وہ جو کچھ اب کر رہے ہیں وہ زینب کے لاپتہ ہونے پر کیا ہوتا تو زینب بچ سکتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…