پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

میرا نام زینب ہے، مجھے آم پسند ہیں، زینب کی آخری تحریر والدین عمرہ پر گئے تو تصویر بنوائی ، شہباز شریف بروقت کارروائی کرتے تو میری بہن بچ جاتی، بہن فاریہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو کھری کھری سنا دیں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا اندوہناک قتل ہر آنکھ کو اشکبار کئے ہوئے ہے۔ زینب کے والدین اور اہل خانہ اس وقت دکھ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ غم ایسا ہے کہ صبر کسی طور نہیں آتا۔ زینب ایک ذہین

اور لائق بچی تھی۔ زینب کی سکول نوٹ بکس دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا ہوم ورک بروقت اور مکمل کرنے کی عادی تھی۔ اس کی اردو کی نوٹ بک پر اس کی آخری تحریر جو اسے ہوم ورک کیلئے ملی تھی ’’میری ذات‘‘تھی ۔ اپنی ذات سے متعلق ہوم ورک کیلئے ملنے والے مضمون میں زینب نے لکھا ہے کہ ’’میرا نام زینب ہے ، میں پاکستانی ہوں، میں قصور شہر کی رہائشی ہوں، مجھے آم بہت پسند ہیں، میرے ابو کا نام محمد امین ہے۔ زینب کی والدہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زینب بھی ہمارے ساتھ عمرے پر جانا چاہتی تھی۔ وہ ہمیں رخصت کرنے ائیرپورٹ بھی آئی جہاں میں نے اپنی بیٹی سے آخری گفتگو میں اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی بار عمرے پر اسے بھی ساتھ لے کر جائوں گی۔ والدین عمرے پر گئے تو زینب نے اپنی تصویر بنوائی جو کہ اس کی زندگی کی آخری تصویر ثابت ہوئی۔ زینب کی بڑی بہن فاریہ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اتنے اچھے ہوتے تو زینب آج ہمارے ساتھ ہوتی وہ جو کچھ اب کر رہے ہیں وہ زینب کے لاپتہ ہونے پر کیا ہوتا تو زینب بچ سکتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…