ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ہم جہاں جاتے ہیں وہاں یہ پینڈو لڑکے۔۔ زینب کے اغوا کے بعد پولیس والے رابطہ کرنے پر کہا کہتے تھے زینب کی بڑی بہن نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور تھانے میں زینب کے اغوا ہونے کی رپورٹ درج کروائی مگر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی ، کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، پولیس والے یہی کہتے تھے کہ ہم جہاں جاتے ہیں زینب کو تلاش کرنے والے گائوں کے لڑکے وہاں پہلے سے پہنچے ہوتے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائوں کے لڑکے پولیس سے بہتر ہیں ، ان گائوں کے ان پڑھ لڑکوں کو پولیس والوں

کی جگہ نوکری دی جائے، زینب کی بڑی بہن نے پنجاب پولیس کی بے حسی ، بے شرمی اور نالائقی کا پول کھول کر رکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی شہیدہ زینب کی بڑی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زینب جیسے ہی گم ہوئی ہم نے قصور تھانے میں اس کے اغوا کی رپورٹ درج کروائی مگر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی پولیس والوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ پولیس والوں سے جب رابطہ کیا جاتا تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم جہاں جاتے ہیں زینب کو تلاش کرنے والے گائوں کے لڑکے پہلے سے ہی اس جگہ اس کو تلاش کرنے کیلئے پہنچے ہوتے ہیں ۔ زینب کی بڑی بہن کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائوں کے یہ ان پڑھ لڑکے تربیت یافتہ اور پڑھی لکھی پولیس سے بہتر ہیں لہٰذا ان کو پولیس کی جگہ نوکری دی جائے۔ زینب کی بہن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے زینب کی لاش کا سراغ لگانے کا دعویٰ بھی غلط ہے ، پولیس کا اس کی لاش ڈھونڈنے میں بھی کوئی کردار نہیں جس جگہ سے زینب کی لاش برآمد کی گئی وہاں پر مستری کام کررہے تھے جنہوں نے پولیس کو بچی کی لاش کی اطلاع دی ۔ جس کے بعد پولیس والے اس جگہ پہنچے اور ہمیں فون کر کے کہا گیا کہ پولیس نے زینب کیلئے آپریشن کیا ہے لیکن بچی کی لاش کوڑے سے برآمد ہوئی ہے ۔ اس موقع پر زینب کی بڑی بہن نے پولیس کے زینب کی گمشدگی اور بعد کے معاملے پر تعاون نہ کرنے کا بھی گلہ کرتےہوئے دعا کی کہ ہم اب یہی دعا کرتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ایسا کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…