جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ہم جہاں جاتے ہیں وہاں یہ پینڈو لڑکے۔۔ زینب کے اغوا کے بعد پولیس والے رابطہ کرنے پر کہا کہتے تھے زینب کی بڑی بہن نے ایسا واقعہ سنا دیا کہ آپ کا بھی خون کھول اٹھے گا

datetime 11  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور تھانے میں زینب کے اغوا ہونے کی رپورٹ درج کروائی مگر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی ، کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، پولیس والے یہی کہتے تھے کہ ہم جہاں جاتے ہیں زینب کو تلاش کرنے والے گائوں کے لڑکے وہاں پہلے سے پہنچے ہوتے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائوں کے لڑکے پولیس سے بہتر ہیں ، ان گائوں کے ان پڑھ لڑکوں کو پولیس والوں

کی جگہ نوکری دی جائے، زینب کی بڑی بہن نے پنجاب پولیس کی بے حسی ، بے شرمی اور نالائقی کا پول کھول کر رکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی شہیدہ زینب کی بڑی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زینب جیسے ہی گم ہوئی ہم نے قصور تھانے میں اس کے اغوا کی رپورٹ درج کروائی مگر پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی پولیس والوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ پولیس والوں سے جب رابطہ کیا جاتا تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم جہاں جاتے ہیں زینب کو تلاش کرنے والے گائوں کے لڑکے پہلے سے ہی اس جگہ اس کو تلاش کرنے کیلئے پہنچے ہوتے ہیں ۔ زینب کی بڑی بہن کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گائوں کے یہ ان پڑھ لڑکے تربیت یافتہ اور پڑھی لکھی پولیس سے بہتر ہیں لہٰذا ان کو پولیس کی جگہ نوکری دی جائے۔ زینب کی بہن نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے زینب کی لاش کا سراغ لگانے کا دعویٰ بھی غلط ہے ، پولیس کا اس کی لاش ڈھونڈنے میں بھی کوئی کردار نہیں جس جگہ سے زینب کی لاش برآمد کی گئی وہاں پر مستری کام کررہے تھے جنہوں نے پولیس کو بچی کی لاش کی اطلاع دی ۔ جس کے بعد پولیس والے اس جگہ پہنچے اور ہمیں فون کر کے کہا گیا کہ پولیس نے زینب کیلئے آپریشن کیا ہے لیکن بچی کی لاش کوڑے سے برآمد ہوئی ہے ۔ اس موقع پر زینب کی بڑی بہن نے پولیس کے زینب کی گمشدگی اور بعد کے معاملے پر تعاون نہ کرنے کا بھی گلہ کرتےہوئے دعا کی کہ ہم اب یہی دعا کرتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ایسا کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…