ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ملکی مفاد کیلئے مشائخ،سجادگان اوراکابرین کی وزیراعلیٰ پنجاب کو حمایت کی یقین دہانی، ختم نبوتؐ پر رانا ثناء اللہ کے موقف پر مکمل اطمینان کا اظہار

datetime 7  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (نیوز ڈیسک) معروف درگاہوں کے سجادہ نشین،مشائخ اور اکابرین نے ملکی مفاد کیلئے ہرقدم پر ساتھ دینے کی وزیراعلیٰ پنجاب کو یقین دہانی کرا دی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت ایوان وزیراعلی میں حکومت پنجاب کے زیراہتمام منعقدہ’’علماء کنونشن‘‘ میں وطن عزیزکی معروف درگاہوں کے سجادہ نشین،مشائخ اورمعتبر روحانی شخصیات نے شرکت کی۔علماء کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ میں

کہا گیا کہ’’پاکستان میں قیام اور اس کے استحکام میں مشائخ عظام،معروف آستانوں کے سجادگان اور اکابر دینی یا روحانی شخصیات کا کردار ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ وطن عزیز کے معروضی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ مشائخ عظام وسجادگان اوراکابر دینی و روحانی شخصیات نے اِس موقع پر ایک طرف تو ملکی سالمیت پر وزیراعلیٰ پنجاب کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور ختم نبوتﷺ پر رانا ثناء اللہ کے موقف پر مکمل اطمینان کا اظہار بھی کیا،اور دوسری طرف اِس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قومی یکجہتی، ملکی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی امن و امان کے قیام کو مستحکم رکھنے کیلئے ہمیشہ کی طرح اپنا اساسی اور کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ہم حکومت پنجاب کی وساطت سے پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ درگاہیں اور آستانیں،دفاع وطن اور قومی و ملی سلامتی کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہم ضرورت پڑنے پر پوری قوم کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحدہ و متفق کھڑے ہوں گے۔ خاتم النبینؐکی رسالت پر ایمان اور آپؐ کی ذات اقدس سے لازوال محبت و کامل اطاعت ہمارے دینی تشخص، اجتماعی بقا ء اور ملی استحکام کی بنیاد ہے۔ آپؐ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل یقین ہمارے ایمان کا ناگزیر جزو اور پاکستان کے 21 کروڑ مسلمانوں کے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ موجودہ پارلیمان او رحکومت وقت اس کی حفاطت کے لئے ہمہ وقت کمربستہ ہے۔اس عظیم الشان

مشائخ کنونشن میں تشریف فرما روحانی شخصیات،مشائخ عظام اور سجادگان اس امر سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ خانقاہی نظام کی اس حقیقی رو کو زندہ کیا جائے جس کے سب خانقاہ علوم و معارف کا مرکزتعلیم وتربیت کا منبع تھی،خانقاہ جس قدر مضبوط ہوگی تذکیہ و طہارت اورپاگیزگی و شرافت بھی اس قدر رواج پائے گی،جس کے سبب سوسائٹی مضبوط اورریاست مستحکم ہوگی۔شرکاء اس امر پر متفق ہیں کہ آج امت مسلمہ ہر طرف سے جس نوعیت کے مصائب و مشکلات کاشکار ہیں ان حالات میں اولیاامت اورصوفیائے ملت کے حیات بخش فرمودات اوران انقلاب آفرین تعلیمات سے روشنی حاصل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔جو زندگی کو عمل،حرکت اور جہد مسلسل سے مزین کرنے اورایک روشن اور بلند نصب العین سے منورکرنے کا پیغام دے رہی ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…