منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔۔ پاکستان کے اہم صوبے میں ڈگریوں کی ’’سیل‘‘ لگ گئی، ڈاکٹر بننے کے شوقین ’’ڈاکٹر‘‘ تو نہ بنے ’’بے وقوف‘‘ بن گئے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) اب ڈاکٹر بننا بہت ہی آسان ہو گیا ہے، جی ہاں کچھ رقم ادھر ادھر سے اکٹھی کریں اور ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لیں، تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں جعلی ڈگریاں تیار کرنے والا گروہ لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رہا ہے، یہ گروہ

افغانستان کی پژواک میڈیکل یونیورسٹی کی جعلی ڈگریاں بناتا ہے اور ان جعلی ڈگریوں کے عوض خیبرپختونخوا کے عوام سے لاکھوں روپے کما رہا ہے۔ ذرائع کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ان ڈگریوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا اور اس وقت ڈگریاں دینے والا شخص بھی غائب ہو چکا ہے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جنہیں پانچ ماہ کے بعد ڈاکٹری کی دو سالہ ڈگری دی گئی، جس نام کی یونیورسٹی کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں اس کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر بننے کے شوقین افراد جو اس نوسرباز کے ہاتھوں لٹ چکے ہیں نے بتایا کہ ہم سے افغانستان لے جانے کا جھانسہ دے کر پیسے لیے گئے لیکن کچھ ماہ بعد ہمیں یہاں پر ہی ڈگریاں دے دی گئیں اور کہا کہ اب آپ لوگ ڈاکٹر بن چکے ہیں، اس گروہ کے ہاتھوں لٹنے والوں نے اس گروہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اب ڈاکٹر بننا بہت ہی آسان ہو گیا ہے، جی ہاں کچھ رقم ادھر ادھر سے اکٹھی کریں اور ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لیں، تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں جعلی ڈگریاں تیار کرنے والا گروہ لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور رہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…