منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

انسداد دہشت گردی کے لیے حکومت کا اہم اعلان، پاکستانی بچوں کا اس میں کیا کردار ہو گا؟ تفصیلات جاری

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہائی پسندی کا خاتمہ تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہے،بچوں میں مثبت رجحانات پروان چڑھانے کیلئے ان کی ابتدائی عمر سے تعلیم و تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے ،دہشتگردی کے خاتمے ،نسل نو کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی کے تناظر میں تربیت ،استعداد کار میں اضافہ کے کورسز کا انعقاد انتہائی اہم ہے، موجودہ حکومت نے

انسداد دہشتگردی کے بیانیے کی تیاری کیلئے ثقافت، ورثہ اور فلمی صنعت کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا ہے،اس اجتماعی ذمہ داری میں معاشرے کے تمام طبقات کو اس میں حصہ ڈالنا چاہئے۔ وزیر مملکت نے یہ بات جمعرات کو سٹریٹجک کمیونیکیشن اینڈ میڈیا انگیجمنٹ ٹریننگ کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 30 سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، موجودہ حکومت نے انسداد دہشتگردی کے بیانیے کی تیاری کیلئے ثقافت، ورثہ اور فلمی صنعت کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ دہشتگردی اور انتہائی پسندی کا خاتمہ تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے افسران کیلئے اس قسم کے تربیتی کورسز کا انعقاد ایک اچھا آغاز ہے، صحافیوں کو بھی اسی طرح کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کا دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خلاف بیانیہ میں اہم کردار ہے، اگر وزارت اطلاعات و نشریات کے افسران کو انسداد دہشتگردی کی تربیت دی جائے تو اس کے معاشرے پر کثیر جہتی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن سروسز اکیڈمی میں پڑھانے جانے والے نصاب کو ازسر نو مرتب کیا جا رہا ہے جس میں دہشتگردی کے خلاف مضامین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک

پاکستانیوں کو بعض ایسی خیراتی تنظیموں کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو ان کے عطیات کو ملک میں دہشتگردی کی مالی معاونت کے لئے استعمال کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں میں عطیات سے متعلق آگہی کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال اہم اور موثر طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی رویوں میں مثبت تبدیلی سے بہتر معاشرتی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ رفاہی ادارے کسی بھی معاشرے کیلئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ رفاعی اداروں کو یقین دلانا ہو گا کہ ان کے عطیات درست طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور روزانہ نئی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے اور انفارمیشن آفیسرز کو نئی ایجادات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا میں برداشت کے کلچر اور خوداحتسابی کے فروغ کیلئے صحافیوں کیلئے بھی ایسے تربیتی کورسز ضروری ہیں۔ آخر میں انہوں نے تربیتی کورس کے شرکاء میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات شفقت جلیل، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان پیس کولیکٹو شبیر انور بھی موجود تھے۔ دو روزہ تربیتی کورس کے دوران انفارمیشن افسران کے استعداد کار میں اضافہ کیلئے مختلف سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…