پیر‬‮ ، 27 جولائی‬‮ 2026 

ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز بند کرنے کا اشارہ ثالثی سے معاملات کے حل کی پیشکش بھی کردی

datetime 5  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)ملک ریاض نے بحریہ ٹان کی بندش کا عندیہ دیتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ چند ماہ میں حکومتی اداروں کی جانب سے دباؤ اور مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا آپریشن شدید متاثر ہو چکا ہے۔ملک ریاض نے دعویٰ کیاکہ ان کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتاری، کمپنی کے بینک اکاؤنٹس کی منجمدی، عملے کی گاڑیوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کی رقوم کی روانی بالکل تباہ ہو چکی ہے اور روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنے اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ملک ریاض نے اس قدم کو آخری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی بھی اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر زمینی حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ملک ریاض نے کہا کہ یہ صورت حال ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر چکی ہے، جو پچاس ہزار محنتی افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی سینئر ملازمین لاپتہ ہیں، سروسز معطل ہیں، ترقیاتی منصوبے رک چکے ہیں اور کمیونٹیز میں معمول کی دیکھ بھال اور سہولتیں شدید متاثر ہو چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ کیفیت وطن عزیز کی معیشت کیلئے بھی کسی شدید بحران سے کم نہیں، کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک بحریہ ٹاؤن میں لاکھوں پاکستانیوں کی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے، سیکڑوں ارب روپوں کی کمرشل منصوبے تکمیل سے پہلے ڈھیر ہو چکے ہیں۔بحریہ ٹاؤن کے بانی نے کہا کہ ہزاروں خاندان اس وقت بے یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

ملک ریاض نے کہا کہ دو دہائیوں میں بحریہ ٹاؤن نے جو کچھ پاکستان کے لیے کیا، اس کا شمار قابلِ فخر ہے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں عالمی معیار کی بستیاں قائم کیں، لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کیا اور قومی خزانے میں اربوں روپے کی شراکت کی،یہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور قوم کی اجتماعی ترقی کا ثبوت ہے۔انھوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے،اس مقصد کیلئے کسی بھی ثالثی (arbitration)میں شریک ہونے اور اس کے فیصلے پر 100فیصد عملدرآمد کا یقین دلاتے ہیں، اگر ثالثی کا فیصلہ ہماری جانب سے رقوم کی ادائیگی چاہے گا تو ہم اس کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ دل و جان سے پاکستان کے عوام اور ریاست کے مقتدررین اداروں کے لیے اپنے تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات برقرار رکھنا چاہتے ہیں نہ کہ ان حالات میں کاموشی سے رخصت ہو جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…