جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اہم ترین وفاقی ادارے کے 14ہزار412ملازمین کا فزیکل آڈٹ ،تنخواہیں وصول کرنیوالے جعلی ملازمین کی تعداداتنی زیادہ نکلی کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی ترقیاتی ادارے ( سی ڈی اے ) میں خدمات سرانجام دینے والے ہزاروں ملازمین کے فزیکل آڈٹ کی ڈیڈ لائن مکمل ہوگئی ہے حتمی تاریخ تک 14ہزار412میں سے 13ہزار پانچ سو ستر ملازمین نے اپنی حاضری کی تصدیق کروادی ہے انتظامیہ نے تصدیق نہ کروانیوالے آٹھ سو 42ملازمین کی تنخواہیں یکم جنوری بندکرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ سی ڈی اے میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف وفاقی ترقیاتی ادارے کی انتظامایہ نے مزید گھیر اتنگ کیا ہے

ممبرایڈمنسٹریشن سی ڈی اے محمد یاسر پیرزادہ کی جانب سے ادارے میں جعلی ملازمین کے خلاف جاری مہم کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں اداریمیں خدمات سرانجام دینے والے چودہ ہزار چارسوبارہ میں160 سترا ہزار پانچ سوستر ملازمین نے بائیو میٹرک حاضری کے ذریعے اپنی ملازمت پر حاضری کی تصدیق کروائی ہے جبکہ آٹھ سو 42 ایسے ملازمین ہیں جو انتظامیہ کی جانب سے متعدد بار وارننگ جاری کیے جانے کے باوجود بھی اپنی حاضری پرنہیں آئے ہیں ممبر ایڈمن نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اداریمیں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین کے فزیکل آڈٹ کے لیے اکیس دسمبر تک وقت دیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی آٹھ سو سے زائد ملازمین ایسے ہیں جن کی تنخواہیں تو باقاعدگی سے جاری ہورہی ہیں تاہم ان کی حاضری نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ بائیو میٹرک تصدیق کے بعد اب انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان آٹھ سو ملازمین کی تنخواہیں یکم جنوری سے بند کردی جائیں گی انہوں نیبتایا کہ بائیو میٹرک حاضری کے لیے سی ڈی اے کی تمام فارمیشنز میں بائیومیٹرک مشینیں نصب کردی گئی ہیں جبکہ ریموٹ اور فیلڈ ایریا کے ملازمین کیلیے جی ایس ایم سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، سی ڈی اے کے شعبہ آئی ٹی کے ذرائع کے مطا بق جن ملا زمین کی جا نب با ئیو میٹرک فارم جمع کروائے گئے ہیں خدشہ ہے کہ ان میں سے بھی سات فیصد کے فارمز دو بار جمع ہو ئے ہیں جس کے با رے چیک کیا جا رہا ہے اور اگلے مر حلے میں مزید 9سو50ملا زمین کی تنخواہ بند کئے جا نے کا امکا ن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…