منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

نئے ڈیم نہ بننے سے سالانہ کتنے ارب کا پانی ضائع ہورہا ہے،تشویشناک صورتحال

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) حکومت کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر کی عدم تعمیر کے نتیجہ میں سالانہ 130 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اگر حکومت ان ذخائر کو قابل استعمال میں لائے تو ملک میں زراعت کو ترقی دی جاسکتی ہے جبکہ پن بجلی پیدا کرکے توانائی کا بحران حل ہوسکتا ہے پانی میں آبی اثاثہ وافر مقدار میں موجود ہے لیکن ڈیموں کی تعمیر کو متنازعہ بنا کر پانی ہر سال سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے بارشوں

اور برف کے گلیشیئر پگھلنے سے گرمیوں میں پانی کا ذخیرہ دریاؤں میں آتا ہے ایک عام اندازہ کے مطابق ہر سال تیس ملین ایکڑ پانی سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے اگر اس پانی کو روک کر قابل استعمال میں لایا جائے تو ملک کی معاشی صورتحال بدلی جاسکتی ہے لیکن ملک کے سیاسی لیڈر اتنے آبی ذخائر کی تعمیر پر راضی بھی نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں نئے ڈیموں کی تعمیر ناممکن دکھائی دیتی ہے اگر داسو ڈیم بھی تعمیر کررہا ہے تو پانی کا کافی ذخیرہ قابل استعمال میں لایا جاسکتا ہے پاکستان کو قدرت نے سالانہ 45سالانہ ملین ایکڑ پانی ہر سال مہیا کرتا ہے جس میں صرف پندرہ ملین ایکڑ پانی قابل استعمال میں لایا جارہا ہے جبکہ پانی تیس ملین پانی سمندر میں چلا جاتا ہے پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ گزشتہ ستر سالوں میں صرف دو ڈیم تعمیر ہوسکتے ہیں جبکہ ملک کو ضرورت پانچ ڈیموں کی ہے جس میں سرفہرست کالا باغ ڈیم ہے جو سیاست کی نذر ہوچکا ہے ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ کم از کم بھاشا ڈیم کو فوری طور پر تعمیر کیاجائے اور اگر بھاشا ڈیم بروقت تعمیر نہ ہوسکا تو ملک کے لئے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…