منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کرتارپورراہداری کےافتتاح پر عمران خان کوسونےکالوٹاملا جو وہ گھر لے گئے اور اس کی جگہ پر پیتل کے لوٹے پر سونےکاپانی چڑھوا کر توشہ خانہ میں جمع کرادیا، فیاض الحسن چوہان کاالزام

datetime 9  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے سابق میڈیا مشیر فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا ہے کہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سابق وزیراعظم کو تحفے میں ملنے والا خالص سونے کا لوٹا پیتل سے تیار کروا کر، اس پر سونے کی ملمع کاری کی گئی اور توشہ خانہ میں جمع کروا دیا گیا، جبکہ اصل سونے کا لوٹا اپنے پاس رکھ لیا گیا۔ایک انٹرویو میں فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ جنوری یا فروری 2019 میں کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم، سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔

اس موقع پر سکھ برادری کی جانب سے سابق وزیراعظم کو سونے کا لوٹا پیش کیا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کا نام لیے بغیر انہیں لالچ اور حریص مزاج کا حامل قرار دیا اور کہا کہ تحفے میں ملا قیمتی لوٹا راولپنڈی کے صرافہ بازار میں پیتل کے لوٹے سے بدل کر، سونے کا پانی چڑھوا کر توشہ خانہ میں جمع کرایا گیا۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملائیشیا سے ملنے والا ایک قیمتی ڈنر سیٹ بھی راولپنڈی کے راجہ بازار میں فروخت کر دیا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ یہ شخص دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے عزت، شہرت اور دولت سب کچھ دیکھا ہے، مگر حقیقت میں وہ لالچی اور موقع پرست ہے۔ ان کے بقول، “آج میں کھلے عام کہوں گا کہ یہ پاکستان کا واحد سابق وزیراعظم ہے جسے لوٹا چور کہنا بالکل درست ہے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…