منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے بعد جہانگیر ترین کو ایک اور بڑا جھٹکا، عمران خان نے بھی فیصلہ سنا دیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تاحیات نا اہلی کے بعد جہانگیر خان ترین نے پارٹی عہدہ چھوڑنے کا بھی فیصلہ کر لیا، پارٹی قیادت سے ملاقات میں فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین

نے پارٹی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے انہوں نے تاحیات نا اہلی کا فیصلہ آنے کے بعد پارٹی قیادت سے ملاقات میں اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب ان کے قریبی دوست انہیں پارٹی عہدہ چھوڑنے اور عدالتی جنگ لڑنےکا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس عمر کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین کی تاحیات نا اہلی کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے جا رہے ہیں تب تک جہانگیر ترین پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فرائض سر انجام دیتے رہیں گے ۔ ذرائع کے تحریک انصاف میں اس وقت جہانگیر ترین کی تاحیات نا اہلی اور ممکنہ طور پر پارٹی عہدہ چھوڑنے کی خواہش سامنے آتے ہی سیکرٹری جنرل کے عہدے کیلئے کھینچا تانی اور لابنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو بطور سیکرٹری جنرل کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی کور کمیٹی اجلاس میں جہانگیر ترین فیصلے اور پارٹی عہدے پر برقراررہنے کے حوالے سے غور کے بعد فیصلہ کیا جائے گا اور اگر کور کمیٹی نے انہیں عہدہ برقرار نہ رکھنے کا کہہ دیا تو پھر نئے سیکرٹری جنرل کیلئے تحریک انصاف اپنے آئین کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…