پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاکستان کے دینی مدارس میں کیا ہو رہا ہے؟ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا ترک صدر اردگان کے حوالے سے حیرت انگیز انکشاف

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ میں مدارس کے خلاف نہیں ہوں مگر ہم لوگوں نے اس کی اصل روح کو کھو دیا ہے، پاکستان آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی کے صدر

طیب اردگان بھی مدرسے سے پڑھے ہوئے ہیں اور آج وہ اپنے ملک کے صدر ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں مدرسوں میں جدید تعلیم دینی چاہیے، آرمی چیف نے کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ چار مسائل کی وجہ سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان پس ماندہ رہ گیا ہے، انہوں نے پہلی وجہ تعلیم بتائی اور کہا کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس سے متعلق یہ تاثر بن گیا ہے کہ یہ صرف ایک فرقے کی تعلیم دیتے ہیں، ایک فرقے کی تعلیم حاصل کرنے والے مدارس کے طلبہ کیا بنیں گے؟ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں ایک جمہوری آدمی ہوں اور میرا پختہ یقین ہے کہ پاکستان مضبوط جمہوری عمل سے ہی کامیاب ہوگا، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی سالمیت کی علامت ہے، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال صوبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ میں مدارس کے خلاف نہیں ہوں مگر ہم لوگوں نے اس کی اصل روح کو کھو دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…