پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دئیے جانےپر سعودی عرب کے صبر کا پیمانہ لبریز، خاموشی توڑ دی، سب سے دبنگ اعلان کر دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

ریاض(سی پی پی/مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی ایوان شاہی نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کے دار الحکومت کے تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کے فیصلے پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا ہے،اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سعودی حکومت اس طرح کے غیر ضروری اور بلا جواز اقدام کے

خطرناک نتائج سے پہلے ہی آگاہ کرچکی ہے۔ سعودی عرب اس اقدام کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اسے امریکی انتظامیہ کے فیصلے پر افسوس ہے،اس فیصلے میں فلسطینی عوام کے بیت المقدس میں تاریخی حق سے جانبداری برتی گئی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے اسے عالمی برداری کی تائید اور عالمی قراردادیں بھی حاصل ہیں،گوکہ امریکی انتظامیہ کے اس اقدام سے بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کا مسلم شدہ حق متاثر نہیں ہوتا نہ ہی اس فیصلے سے زمینی حقیقت تبدیل ہوگی تاہم اس سے امن قائم کرنے کی کوششیں سبوتاژ ہوں گی نیز اس سے قضیہ کے متعلق امریکاکی جانب داری واضح ہوگی،سعودی شاہی فرمانروا کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فلسطین، اسرائیل تنازعہ مزید گمبھیر ہوگا،سعودی حکومت کا پرزور مطالبہ ہے کہ عالمی قراردادوں کے علاوہ عرب ممالک کی امن تجویز کے مطابق مسئلہ فلسطین کا عادلانہ حل تلاش کیا جائے جن کے ذریعہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین میں جائز حقوق مل جائیں اور خطے میں امن واستحکام قائم ہو۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے شاہی دیوان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی عالمی قراردادوں

کے منافی اور ناقابل قبول اقدام ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی فیصلے پر شدید تشویش ہے۔ اس اقدام سے امریکا کی فلسطینی قوم کے حقوق کے خلاف اسرائیل کی واضح طرف داری ظاہر ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،سعودی عرب پہلے القدس کے بارے میں غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کے

تباہ کن نتائج سے خبردار کر چکا ہے۔شاہی دیوان نے کہا القدس کے حوالے سے تاریخی حقائق اور طے شدہ اصولوں کی نفی کرکے فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کو عالمی قراردادوں کے مطابق جو حقوق دیئے گئے ہیں انہیں حاصل کرنے اور عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کی مساعی فلسطینیوں کا حق ہے۔

سعودی عرب کسی ملک کے ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق، القدس کے اسلامی تشخص اورخطے میں دیرپا امن کی مساعی پر ضرب لگتی ہو۔ سعودی عرب نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق بہ شمول حق خود ارادیت کے فراہم کرنے، مسئلہ فلسطین کے دائمی اور منصفانہ حل کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے، عرب ممالک کی طرف سے

پیش کردہ امن فارمولے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنے، فلسطینی قوم کے سلب شدہ حقوق انہیں فراہم کرنے اور خطے میں امن واستحکام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے پر زور دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…