جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ماڈل ٹاؤن واقعہ میں وہ کون تھا جس نے پنجاب بھر سے لوگوں کو اکٹھا کیا ،پولیس پر حملے کیلئے اکسایا ،اہم وفاقی وزیر نے نئے سوال اُٹھادیئے

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کیا میں نے کہا تھا کہ ماڈل ٹاؤن سے تجاوزات ہٹانے کے دوران وہاں بندے مارنے ہیں ،شہباز شریف صاحب بھی بچے گئے اور میں بھی کیونکہ ہم دونوں بے گناہ اور بے قصور ہیں ، ماڈل ٹاؤن واقعہ میں وہ کون تھا جس نے پنجاب بھر سے لوگوں کو اکٹھا کیا اور پولیس پر حملے کیلئے اکسایا ،یہ سانحہ تو 16جون کا ہے،طاہر القادری نے تو بعد میں آنا تھا،جسٹس باقر نجفی

کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمت واقعہ حالات و واقعات کے سبب رونما ہوا،زخمی ہونیوالے 29 پولیس اہلکارعدالت میں بھی پیش ہوئے ہیں۔ وہ منگل کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ سانحہزخمی ہونیوالے 29 پولیس اہلکارعدالت میں بھی پیش ہوئے ہیں، ماڈل ٹاؤن واقعے میں جتنے بھی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے وہ سب موجود ہیں، سوال یہ کرنا چاہیے کہ وہ کون تھا جس نے پنجاب بھر سے لوگوں کو اکٹھا کیا،وہ کون تھا جس نے لوگوں کو پولیس پر حملے کیلئے اکسایا ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کو بیان حلفی کے بعد بلایا ہی نہیں گیا ،سانحہ ماڈل ٹاؤ ن تو 16جون کا ہے اورطاہر القادری نے تو بعد میں آنا تھا،ایجنسیز کی رپورٹ کا جسٹس باقر نجفی رپورٹ میں ذکر ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمت واقعہ حالات و واقعات کے سبب رونما ہو۔ ماڈل ٹاؤن سے تجاوزات ہٹانے کے دوران وہاں بندے مارنے ہیں ،شہباز شریف صاحب بھی بچے گئے اور میں بھی کیونکہ ہم دونوں بے گناہ اور بے قصور ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…