جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خبر دار،ہوشیار! ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا لالچ دے کرخواتین سمیت13افراد کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا،چونکادینے والے انکشافات

datetime 4  دسمبر‬‮  2017 |

چنیوٹ (این این آئی) ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا لالچ،چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے خواتین سمیت13افراد کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا ۔چار ماہ گزر گئے مگر کوئی واپس نہ لوٹا ۔متاثرین کا ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاج مغویوں کی بازیابی کا مطالبہ ،وزیر اعلی پنجاب اور سپریم کورٹ نوٹس لے مظاہرین کی اپیل ۔تفصیلات کے مطابق چنیوٹ کے علاقہ

محلہ نور والا،کمانگراں کے رہائشیوں کی جانب سے ڈی پی او آفس چنیوٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ پانچ ماہ قبل عدنان نامی شخص آیا اور لوگوں کو نوکریوں کا جھانسہ دیتے ہوئے ان کی تنخواہ ایک لاکھ اور پچاس ہزار روپے بتائی جس پر علاقہ کے غریب لوگ اس کے جھانسے میں آگئے اور وہاں سے تیرہ افراد جن میں خاکی ،رضوان ، اظہر ، مانا ، ارشد، وارث، شمیم ، رضیہ، منور بی بی ، سفیان ، بسم ، غلام حیدر، علی حیدر،ابوبکر، ام کلثو، فاطمہ ، ظفر ، وارث شامل ہیں اس کے ساتھ نوکری پر چلے گئے گذشتہ چار ماہ سے ان تیرہ افراد کا کوئی پتہ نہ ہے اور نہ ہی ان اپنے گھر والوں سے رابطہ ہے ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے بھی بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کررکھی ہے لیکن ان کی شنوائی نہیں ہورہی ہے دوسری طرف پولیس تھانہ سٹی کے ایس ایچ او ظفر وٹو کا کہنا ہے کہ ایک فراڈیہ گروپ نے ان کے افراد کو مختلف جگہوں پر نوکریوں پرلگوانے کا لالچ دیا تھا اس گروپ میں لاپتہ ہونیوالے افراد کے رشتہ داربھی شامل ہیں تاہم معاملہ کی انکوئری کی جارہی ہے اور مغوی افراد کو ہائی کورٹ میں پیش کردیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…