جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال،افسوس ناک انکشافات 

datetime 1  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جماعۃالدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی اور مولانا امیر حمزہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ یو این اور دیگر عالمی اداروں کو ہندوستانی فوج کی اس دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور بھارت سرکار پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ

کشمیر سے اپنی فوجیں نکالے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہاکہ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا۔ اس سلسلہ میں یو این کی بیسیوں قراردادیں موجود ہیں لیکن بھارتی حکمران ان قرادادوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور اب اس نے مظلوم کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی ملک اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے خاموشی تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور بھارتی ظلم و بربریت روکنے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہیں۔ جماعۃالدعوۃ کے رہنماؤں نے کہاکہ بھارت اور اسرائیل کشمیر و فلسطین میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہے۔دو دن قبل فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کا عالمی دن بھی منایا گیا ہے تاہم افسوسنا ک امر یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جانب سے اسرائیلی ظلم و بربریت روکنے کیلئے مضبوط پالیسیاں ترتیب نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کیلئے صرف ایک دن منانا ہی کافی نہیں ہے۔ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی ہر ممکن مددوحمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی تحریک ان کی اپنی ہے۔ وہ اس تحریک میں لازوال قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ شہداء کی قربانیاں جلد ان شاء اللہ رنگ لائیں گی اور وہ جلد آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…