جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

کل بارہ ربیع الاول ہے اور25 دسمبرکو قائداعظم کی سالگرہ ہے،آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے‘ ہم کل کو اپنے قائد اور اپنے رسولؐ کو کیا منہ دکھائیں گے ان کو کیا جواب دیں گے؟ جاوید چودھری کا موجودہ صورتحال پر چشم کشا تجزیہ

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |
بسم اللہ ارقیک من کل

لندن میں 28 نومبر کو قائداعظم محمد علی جناح کے مجسمے کی رونمائی ہوئی‘ تقریب میں لندن کے میئر صادق خان کے علاوہ چار سو لوگ شریک ہوئے‘ ان تمام لوگوں نے مجسمے کی رونمائی پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں‘ قائد کا مجسمہ رونمائی کے بعد قائد کی درس گاہ لنکو انز بھجوا دیا گیا‘ قائد نے وہاں سے بار ایٹ لاء کیا تھا‘ آپ المیہ دیکھئے جس وقت لندن میں قائد کے مجسمے کی رونمائی ہو رہی تھی‘ جس وقت لوگ کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے تھے

اس وقت قائد اعظم کی تخلیق یعنی پاکستان میں ریاست کی رٹ کو ڈنڈے مارے جا رہے تھے‘ اس پر پتھر برسائے جا رہے تھے اور اسے ننگی گالیاں دی جا رہی تھیں‘ آپ ایک طرف بلندی دیکھئے برطانوی شہری لندن میں قائد کی عظمت کو سلام پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف قائد کی قوم سڑک پرربیع الاول کے مہینے میں قائد کے ملک کی۔۔۔سری کر رہی تھی‘ مجھے خطرہ ہے ہم اگر نہ سنبھلے‘ ہم نے اگر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ لنکو انز جو آج بڑے فخر سے اپنے کیمپس میں قائداعظم کا مجسمہ لگا رہا ہے وہ اس مجسمے کو کیمپس سے اٹھا دے گا‘ کل بارہ ربیع الاول ہے اور25 دسمبرکو قائداعظم کی سالگرہ ہے‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے‘ ہم کل کو اپنے قائد اور اپنے رسولؐ کو کیا منہ دکھائیں گے ان کو کیا جواب دیں گے۔ کیا واقعی ریاست نے 25 نومبر کو گھٹنے ٹیک دیئے تھے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں آپریشن کی ناکامی تسلیم کرلی‘ حکومتی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا، پولیس اہلکار20دنوں سے دھرنے کے مقام پر تعینات تھے‘یہ تھک گئے تھے‘ مظاہرین کی جانب سے مزاحمت ہوئی‘ مظاہرین نے پولیس پر ڈنڈوں ‘پتھروں اور کلہاڑیوں سے وار کئے‘ پولیس پر آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے‘مظاہرین کے پاس ایسے ہتھیار تھے جس سے پولیس کو شدید نقصان ہوا‘ پولیس کے پاس آپریشن روکنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا اوریہ عام مظاہرین نہیں تھے وغیرہ وغیرہ‘

یہ اعترافات سن کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندوں سے کہا، ملکی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں‘ ہر چیز سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتی‘ کبھی ملک کیلئے بھی سوچا کریں‘ جج صاحب نے کہا، کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے‘ کیا یہاں اسلام پر بات نہیں ہو سکتی‘ کیا ہم حکومت کے اعترافات کو ریاست کی شکست سمجھیں اور آج پیپلز پارٹی 50 سال کی ہوگئی‘کیا پارٹی آج بھی اتنی ہی مضبوط ہے جتنی یہ 1968ء میں تھی‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…