جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پاکستانی سائنسدانوں کا ایسا کارنامہ کہ دنیا بھی تعریف کرنے پر مجبور

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سائنسدانوں کا گلابی سنڈی پر قابو پانے کی دنیا بھر میں تعریف کی جارہی ہے ،پاکستانی سائنسندانوں کی محنت کی وجہ سے پاکستانی کپاس کو گلابی سنڈی فری قرار دے دیا گیا ہے،گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ سے بھارت میں کپاس تباہ ہوگئی۔ بھارت میں قبل از وقت کپاس کی کاشت کی وجہ سے گلابی سنڈی کے

سنگین حملے نے کاشتکاروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے مختلف اضلاع میں کپاس کے کاشتکاروں نے وقت سے پہلے کپاس کی بوائی شروع کردی جس سے گلابی سنڈی نے برقی انداز میں جنم لیا اور کپاس کی فصل کو سخت متاثر کیا۔جس وجہ سے پاکستان کی کپاس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی کپاس کی تعریف کی جارہی ہے۔ کپاس کی فصل کو جولائی میں اس وقت نقصان پہنچا جب اس کے پھول کھل رہے تھے۔ گلابی سنڈی کی عمر 40دن ہوتی ہے لیکن چھ ماہ میں اس کے تین حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس اس کے حملے کی وجہ سے 20فیصد کپاس تباہ ہوگئی تھی۔ زرعی ماہرین نے کپاس پر گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ وقت سے پہلے اس کی کاشت قرار دیا ہے۔ ان ماہرین نے کہا ہے کہ گزشتہ برس میں گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار نصف رہ گئی۔ کپاس کی ساکھ متاثر ہوئی اور اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ہوئی جس سے کپاس کا کاشتکار سخت متاثر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کے کاشتکار کیڑے مار ادویات کا استعمال کریں ۔ کپاس پر کیڑوں کا حملہ عمومی طور پر فروری میں ہوتا ہے جب کپاس کا سیزن ختم ہو رہا ہوتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر گزشتہ برس یہ حملہ اگست میں ہوا جب کپاس کی فصل پک کر تیار ہوچکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…