پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پاکستانی سائنسدانوں کا ایسا کارنامہ کہ دنیا بھی تعریف کرنے پر مجبور

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سائنسدانوں کا گلابی سنڈی پر قابو پانے کی دنیا بھر میں تعریف کی جارہی ہے ،پاکستانی سائنسندانوں کی محنت کی وجہ سے پاکستانی کپاس کو گلابی سنڈی فری قرار دے دیا گیا ہے،گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ سے بھارت میں کپاس تباہ ہوگئی۔ بھارت میں قبل از وقت کپاس کی کاشت کی وجہ سے گلابی سنڈی کے

سنگین حملے نے کاشتکاروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے مختلف اضلاع میں کپاس کے کاشتکاروں نے وقت سے پہلے کپاس کی بوائی شروع کردی جس سے گلابی سنڈی نے برقی انداز میں جنم لیا اور کپاس کی فصل کو سخت متاثر کیا۔جس وجہ سے پاکستان کی کپاس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی کپاس کی تعریف کی جارہی ہے۔ کپاس کی فصل کو جولائی میں اس وقت نقصان پہنچا جب اس کے پھول کھل رہے تھے۔ گلابی سنڈی کی عمر 40دن ہوتی ہے لیکن چھ ماہ میں اس کے تین حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس اس کے حملے کی وجہ سے 20فیصد کپاس تباہ ہوگئی تھی۔ زرعی ماہرین نے کپاس پر گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ وقت سے پہلے اس کی کاشت قرار دیا ہے۔ ان ماہرین نے کہا ہے کہ گزشتہ برس میں گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار نصف رہ گئی۔ کپاس کی ساکھ متاثر ہوئی اور اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ہوئی جس سے کپاس کا کاشتکار سخت متاثر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کے کاشتکار کیڑے مار ادویات کا استعمال کریں ۔ کپاس پر کیڑوں کا حملہ عمومی طور پر فروری میں ہوتا ہے جب کپاس کا سیزن ختم ہو رہا ہوتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر گزشتہ برس یہ حملہ اگست میں ہوا جب کپاس کی فصل پک کر تیار ہوچکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…