پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

جب ادارے کام نہیں کریں گے تو متبادل فوج ہی کام سنبھالے گی، سپریم کورٹ نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے لیاری میں متروکہ وقف املاک کی عمارت پر قبضہ اور غیرقانونی تعمیرات کرنے والے ٹھیکیدار کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے رقم وصول کرکے مکینوں کو دینے کی ہدایت کی ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے جب ادارے کام نہ کریں تو متبادل کے طور پر فوج ہی ہے ، جب کام نہیں ہوگا تو فوج ہی نظر آے گی۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لیاری میں متروکہ وقف املاک کی عمارت پر قبضہ اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس کی سماعت کی ،سرکاری اداروں کی کارکردگی پر عدالت برہم ہوگئی۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی وجہ سے شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے ایس بی سی اے پولیس کی مدد مانگتی ہے، پولیس رینجرز کی مدد مانگتی ہے جب ادارے کام نہ کریں تو متبادل کے طور پر فوج ہی ہے ، جب کام نہیں ہوگا تو فوج ہی نظر آے گی ، ریاستی مشینری تباہ ہوگئی ہے ۔سماعت کے دوران پولیس نے عمارت کی ملکیت کے دعویدار شنکر لعل کا کریمنل ریکارڈ پیش کردیا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہاایوکیو ٹرسٹ، سندھ بلڈنگ اتھارٹی اہنی ذمہ داری ادا نہیں کررہے ،عدالت کو آئین کے آرٹیکل187کے تحت اپنا اختیار استعمال کرنا چاہیے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہاسندھ حکومت کے افسران بے حس ہیں اپنی سرکاری نوکریوں کا حق ادا نہیں کررہے ، سرکاری افسران کام نہ کرانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں عدالت کے حکم پر ٹھیکیدار عبدالکریم کمرہ عدالت سے گرفتارکرلیا عدالت نے حکم دیا کہ ٹھیکیدار سے رقم وصول کرکے مکینوں کو دی جائے ،اورمکینوں کو معاوضہ ادا کرکے ایک ماہ میں عمارت خالی کرائی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…