پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن کرنیوالا پولیس کمانڈوسامنے آگیا، آپریشن کے بعد کس حال میں ہے، رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبر

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کاش وہ دن میری زندگی سے نکال دیا جائے جب میں پولیس میں بھرتی ہوا، فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن میں منصوبہ بندی کا فقدان، بروقت فیصلہ نہ کرنے کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی، دونوں ٹانگیں ٹوٹنے کے بعد دو دن ہسپتال میں رکھ کر دو ہفتے کی چھٹی دیکر گھر بھیج دیا گیا، تحریک لبیک کے دھرنے میں شریک پولیس کمانڈو کی برطانوی نشریاتی ادارے

بی بی سی سے گفتگو، پولیس حکام کے روئیے سے دلبرداشتہ پولیس اہلکار نے آپریشن ناکامی کا ذمہ دار افسران بالا کو قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن میں فورسز کے پہلے حملے میں شریک پولیس کمانڈو نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فیض آباد آپریشن کی ناکامی کی بڑی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان اور بروقت فیصلہ نہ کرنا تھا جس نے فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ پولیس کمانڈو کا کہنا تھا کہ کاش وہ دن میری زندگی سے نکال دیا جائے جس دن میں پولیس میں بھرتی ہوا۔اس لئے نہیں کہ فیض آباد دھرنے میں مظاہرین نے میری دو نوں ٹانگیں توڑ دیں بلکہ اس لئے کہ میں اپنے سینئر افسران کی آپریشن کے دوران حکمت عملی اور ان کے روئیےسے مایوس ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے کے باوجود بھی ان کے علاج و معالجے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی دو دن ہسپتال میں رکھنے کے بعد اسے 2ہفتے کی چھٹی دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے افسران میں سب انسپکٹر امانت اور محمد اسلم شامل ہیں اور یہ مقدمہ قتل کی تفتیش کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…