پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت ،مقتول شاہ زیب کے اہل خانہ کو کتنے کروڑ روپے،بنگلہ اور فلیٹ دیاگیا؟شاہ رخ اب کہاں اور کس حال میں ہے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت پر سندھ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد شاہ زیب قتل کیس میں دیت کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق دیت میں مقتول شاہ زیب کے اہل خانہ کو 27 کروڑ روپے ،ڈیفنس میں 500 گز کا ایک بنگلااور آسٹریلیا میں ایک فلیٹ بھی دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شاہ زیب کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب کے ساتھ کیا گیا

،دوسری طرف شاہ رخ جتوئی کو طبی بنیادوں پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور وہ ہسپتال میں دو ماہ سے موجود ہیں۔ خیال رہے کہ کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس کے حکم پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا تھا، جن کے تحت دیت ممکن نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ رخ جتوئی جیل سے چار سے پانچ روز تک غائب ہو گیا تھا جبکہ اعلی حکام کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر اسے واپس جیل لایا گیا۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں وہ جناح اسپتال میں موجود ہے جہاں اسے تمام طرح کی سہولیات دستیاب ہیں، وہ اکثر رات اپنے گھر چلا جاتا ہے اور صبح واپس اسپتال آ جاتا ہے۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو پھانسی دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا تھا۔ ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا کی جانب سے صلح کی درخواست عدالت میں جمع کرائی گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے۔ اس پر سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سے انکوائری رپورٹ طلب کی جس میں بتایا گیا کہ ذاتی عناد پر جھگڑا ہوا جس پر شاہ زیب کو قتل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…