پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

موبائل فون کے بے دریغ استعمال نے پاکستان میں خوفناک صورتحال پیداکردی،گزشتہ 10ماہ میں طلاق کے کتنے کیسز رجسٹرڈ ہوئے؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

فیصل آباد(آئی این پی) پسند کی شادی گھریلوں نا چا قی عدم برداشت کے واقعات میں خطرناک حد تک اضا فہ سوشل میڈ یا اور مو بائل فون کا زیادہ استعمال بڑا سبب بنا فیصل اآباد میں 10ماہ کے دوران 20ہزار خواتین نے فیملی کورٹس میں رجوع کیا گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والی خواتین کی تعداد زیادہ آئے

روز اضا فہ ہو نے لگا جس میں 15سال سے 20سال کی کم عمر خواتین کی تعداد بہت زیادہ سا منے آئی تفصیل کے مطا بق فیصل آباد میں گز شتہ 10ماہ کے دوران 20ہزار خواتین نے فیملی کورٹس سے رجوع کیا خواتین کی طرف سے زیادپ مقدمات خلع، خر چہ اور گارڈین کے مقدمات کی سماعت سینئر وکلاء کے مطا بق اتنی تعداد میں کیسوں کا بڑھنا خوناک ہے سو شل میڈ یا موبا ئل کا زیادہ استعمال بھی ایسے کیسوں کا سبب بنا حکومت خواتین کی مرضی سے شادی کا قانون نہ بنا سکی قانون میں سخت سزا نہ ہو نے کہ وجہ سے اضافہ ہوا ایسے مقدمات کی تعداد میں اضا فہ انتہا ئی خطرناک ہے یونیورسٹیو ں اور کا لجز میں طلباء اور طا لبات کا اکٹھے تعلیم حا صل کر نا بھی اس خطرناک اضا فے کا سبب ہے والدین اپنے نوجوان بچے اور بچیوں کو موبا ئل فون کے استعمال کو سختی سے روکیں موبا ئل کے استعمال سے رشتے ٹو ٹنے لگے میاں بیوی معمولی شک پر طلاق دے دیتے ہیں یا اور خواتین خلع کے لیے عدا لتوں مین پہنچ جا تی ہیں مو بائل فون کے زیادہ استعمال نے عدم برداشت مین خطرناک حد تک اضا فہ کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…