جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کیلئے کس تاریخ کو خط لکھا تھا،ضلعی مجسٹریٹ سب کچھ سامنے لے آئے

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کیلئے چوبیس نومبر کو متعلقہ حکام کو خط لکھا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاک فوج کی جانب سے حکومت کی طرف سے فوج کی تعیناتی سے متعلق خط پر ایک جواب میں کہا گیا تھا کہ رینجرز کی موجودگی کے باوجود انہیں امن وامان کے قیام کیلئے تعینات نہیں کیا گیا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کہا کہ

چوبیس نومبر کے خط میں درخواست کی گئی تھی کہ رینجرز کو 25نومبر چھ بجے صبح تعینات کیا جائے ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خط میں تجویز دی گئی تھی کہ کسی حادثاتی حالات سے نمٹنے کیلئے رینجرز تعینات کی جائے اور وہ ہنگامہ آرائی کی صورت میں خصوصی یونیفارم بھی پہنیں ۔دریں اثناء پاک فوج کی جانب سے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کی درخواست کے جواب میں حکومت کو ایک خط میں چند غور طلب معاملات کی طرف توجہ دلائی ہے ۔مراسلہ میں کہاگیا کہ فوج اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر نے کیلئے تیار ہے تاہم مراسلے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ فوج صرف ہجوم اور احتجاج کر نے والوں کو منتشر کر نے نہیں بلکہ ہنگامہ آرائی ختم کر نے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کلیئرنس آپریشن میں اسلحہ کے استعمال سے بھی منع کیا گیا ہے ۔فوج کے مراسلے میں یہ بھی کہاگیا کہ اسلام آباد میں پولیس کے ساتھ رینجرز تعینات رہی ہے لیکن اس کے باوجود رینجرز کو تحریری ہدایات جاری نہیں کئے گئے جس پر پہلے اتفاق ہوا تھا۔خط میں مزید کہا گیا کہ دھرنا مظاہرین سے نمٹنے کیلئے پولیس کو بھی موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی پولیس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا گیا ہے ۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز جنرل سٹاف برانچ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے 25نومبر کوجن کو خط بھیجا گیا ہے ان میں وزیراعظم آفس ٗ سیکرٹری وزارت دفاع ٗ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب ٗڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٗ چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد شامل ہیں ۔ اسلام آباد میں دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں فوج کی تعینات کیلئے باضابطہ خط لکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…