جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کر نے کے احکامات کس نے دیئے ،تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)ہفتہ کو آپریشن کے احکامات ملتے ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوئے ۔فیض آباد کو کلیئر کرنے کیلئے پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے 9ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔اسلام آباد اورراولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کر نے کے احکامات ضلعی مجسٹریٹ محمد مشتاق نے دیئے ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو آپریشن کے احکامات ملتے ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوئے ۔فیض آباد کو کلیئر

(خبر جا ری ہے)

پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے 9ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کو رات 12بجے تک مین روڈ خالی کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس پر عملدرآمد نہ ہونے پر عدالتی احکامات کی تعمیل کیلئے صرف آپریشن کا راستہ ہی باقی بچا تھا۔آپریشن شروع کرنے کے احکامات ضلعی مجسٹریٹ محمد مشتاق نے دیے جس کے ساتھ ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوگئے جنہیں پولیس حکام ہدایات دے رہے ہیں تاکہ صورتحال کو بغیر کسی جانی نقصان کے قابو پایا جا سکے ۔

اسلام آباد (این این آئی)ہفتہ کو آپریشن کے احکامات ملتے ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوئے ۔فیض آباد کو کلیئر کرنے کیلئے پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے 9ہزار اہلکار آپریشن میں

حصہ لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔اسلام آباد اورراولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کر نے کے احکامات ضلعی مجسٹریٹ محمد مشتاق نے دیئے ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو آپریشن کے احکامات ملتے ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوئے ۔فیض آباد کو کلیئر کرنے کیلئے پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے 9ہزار اہلکار آپریشن میں حصہ لیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس سے قبل اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کو رات 12بجے تک مین روڈ خالی کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس پر عملدرآمد نہ ہونے پر عدالتی احکامات کی تعمیل کیلئے صرف آپریشن کا راستہ ہی باقی بچا تھا۔آپریشن شروع کرنے کے احکامات ضلعی مجسٹریٹ محمد مشتاق نے دیے جس کے ساتھ ہی تقریباً 800پولیس اہلکار پنڈال میں داخل ہوگئے جنہیں پولیس حکام ہدایات دے رہے ہیں تاکہ صورتحال کو بغیر کسی جانی نقصان کے قابو پایا جا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…