جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن کرنے پر مجبور کیوں ہوئے؟ حکومت نے ذمہ داری سے جان چھڑا لی، حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور مظاہرین سے بات چیت کرنیوالی حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ حکومت ہائیکورٹ کے حکم کے بعد آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جمعے کی رات ساڑھے 12 بجے تک مظاہرین سے مختلف ذرائع سے رابطے کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ، انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈیڈ لائن کے بعد آپریشن ناگزیر ہو گیا تھا۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے

(خبر جا ری ہے)

مستعفی ہونے کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے اور کہاہے کہ حالات میرے استعفے سے معمول پر آتے ہیں تو میں استعفیٰ دینے پر تیار ہوں، اس سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس سلسلے میں دیگر وزراء سے مشاورت شروع کردی ہے ۔

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور مظاہرین سے بات چیت کرنیوالی حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ حکومت ہائیکورٹ کے حکم کے بعد آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جمعے کی رات ساڑھے 12 بجے تک مظاہرین سے مختلف ذرائع سے رابطے کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ، انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈیڈ لائن کے بعد

آپریشن ناگزیر ہو گیا تھا۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے اور کہاہے کہ حالات میرے استعفے سے معمول پر آتے ہیں تو میں استعفیٰ دینے پر تیار ہوں، اس سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس سلسلے میں دیگر وزراء سے مشاورت شروع کردی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…