جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

آپریشن کرنے پر مجبور کیوں ہوئے؟ حکومت نے ذمہ داری سے جان چھڑا لی، حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور مظاہرین سے بات چیت کرنیوالی حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ حکومت ہائیکورٹ کے حکم کے بعد آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جمعے کی رات ساڑھے 12 بجے تک مظاہرین سے مختلف ذرائع سے رابطے کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ، انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈیڈ لائن کے بعد آپریشن ناگزیر ہو گیا تھا۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے

(خبر جا ری ہے)

مستعفی ہونے کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے اور کہاہے کہ حالات میرے استعفے سے معمول پر آتے ہیں تو میں استعفیٰ دینے پر تیار ہوں، اس سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس سلسلے میں دیگر وزراء سے مشاورت شروع کردی ہے ۔

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور مظاہرین سے بات چیت کرنیوالی حکومتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ حکومت ہائیکورٹ کے حکم کے بعد آپریشن کرنے پر مجبور ہوئی۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جمعے کی رات ساڑھے 12 بجے تک مظاہرین سے مختلف ذرائع سے رابطے کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس مسئلے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ، انہوں نے کہا کہ عدالتی ڈیڈ لائن کے بعد

آپریشن ناگزیر ہو گیا تھا۔دریں اثناء وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کر کے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے اور کہاہے کہ حالات میرے استعفے سے معمول پر آتے ہیں تو میں استعفیٰ دینے پر تیار ہوں، اس سلسلے میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس سلسلے میں دیگر وزراء سے مشاورت شروع کردی ہے ۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…