پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں چینی کمپنی کے دو عہدیدار وں کو ایسا کام کرتے گرفتار کر لیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سر وے میں استعمال ہونے والے آلات کی کلیئرنس کیلئے جعلی دستاویزات جمع کرانے کا الزام، آئل اینڈ گیس کی سروے کمپنی کے دو چینی باشندے گرفتار، کلیئرنگ ایجنٹ اور کسٹمز اہلکاروں سمیت

دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی نے سروے میں استعمال ہونے والے آلات کی کلیئرنس کیلئے جعلی دستاویزات جمع کرانے کے الزام میں آئل اینڈ گیس کی سروے کمپنی کے دو چینی باشندوں کو گرفتارکر لیا ہے جبکہ کلیئرنگ ایجنٹ اور کسٹمز اہلکاروں سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔ چینی کمپنی ایم /ایس ، بی جی پی پاکستان انٹرنیشنل کے کنٹری منیجر ژونگ ژونگ مِن اور ڈپٹی کنٹری منیجر لی چونگ ہونگ کو 67 کروڑ روپے کے آلات کی کسٹم کلیئرنس کیلئے جعلی دستاویزات جمع کرانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج کیے جانے والے مقدمے میں کسٹمز اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے کا معاملہ بھی زیر غور ہے لیکن اس سلسلے میں کمپنی نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایف آئی اے نے رواں سال 2 چینی شہریوںژونگ شیاکوان اور ژونگ شیان منگ کو اے ٹی ایم مشینوں سے کسٹمرز کا ڈیٹا چرانے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…