جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کی شدید قلت والے ممالک،پاکستان کس نمبرپر پہنچ گیا؟تشویشناک انکشاف،عالمی ادارے نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کا شمار دنیا کے ان 5 ملکوں میں شامل کیا گیا ہے جہاں پانی کی شدید قلت کاسامنا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان چند بدقسمت ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 60 برسوں کے دوران پاکستان میں ہر شخص کو دستیاب پانی کی سالانہ مقدار

میں4360کیوبک میٹر کمی واقع ہوئی ہیں۔دستاویز کے مطابق سال1951 میں پاکستان میں ہرشخص کوسالانہ 5260 کیوبک میٹرپانی دستیاب تھا جب کہ 2016 میں مزید کم ہوکرفی شخص سالانہ پانی کی دستیابی محض900 کیوبک میٹر تک رہ گئی ہیں۔اگر پاکستان نے پانی کے ذخائرنہ بنائے اورسیلابی پانی کا دانشمندانہ اقدام نہ کیاتو 2035 تک فی کس پانی کی دستیابی کی شرح مزید کم ہوکر 500 کیوبک میٹر تک رہ جائیگی۔ملکی کی مجموعی آبادی میں تیزی سے اضافہ خاص طور پر شہری آبادی میں اضافہ کے باعث دریاوں، گلیشییرزکے پگھلاؤ اوربارشوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والا تازہ پانی ملک کی ضروریات کو پورا نہیں کرپارہی ہیں جس کے باعث پاکستان میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس وقت تقریبا 60 فیصد سے زائد پانی ٹیوب ویلز اور پمپوں کے زریعے زیر زمیں سے حاصل کیا جارہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سٹینڈرڈ کے مطابق کسی بھی ملک کی مجموعی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کم از کم 120 دنوں کی پانی زخیرہ ہونا ضروری ہے لیکن اس کے برعکس اس وقت پاکستان کی اوسط ضروریات کو پوراکرنے کیلیے محض 30 دنوں کیلیے پانی ذخیرہ ہے جبکہ اس کے برعکس انڈیاکی اوسط ضرویات پوراکرنے کیلیے 220 دنوں کا پانی ذخیرہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…