پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

بلدیہ فیکٹری ،آگ کیوں اور کیسے لگائی گئی؟ پیپلزپارٹی و سنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کے ساتھ کیا ہوا؟250افراد کو زندہ جلادینے کے واقعے کے مرکزی ملزم کے لرزہ خیزانکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں مرکزی ملزم عبدالرحمن بھولا کے ہائی کورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ کیس میں سماعت کے دوران اہم انکشافات سامنے آگئے۔ مقدمے کے مرکزی ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بیان حلفی عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں اس نے انکشاف کیا کہ

اس نے قتل وغارت گری ایم کیوایم کی پالیسی کے تحت کی، اور پیپلزپارٹی و سنی تحریک کے درجنوں کارکنوں کو قتل کیا۔عبدالرحمان بھولا نے کہا کہ وہ زکوۃ، فطرہ، کھالوں اور بھتے سے حاصل ہونے والے کروڑوں روپے مرکز نائن زیرو پر جمع کراتا تھا، حماد صدیقی نے اہم ٹاسک کے لیے اسے بلدیہ کا سکیٹر انچارج بنایا اور بلدیہ فیکٹری علی انٹر پرائزز سے 25 کروڑ روپے بھتہ مانگنے کا ٹاسک دیا، 11 ستمبر 2012 کو زبیر عرف چریا نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کا بندوبست کرلیا ہے، زبیر چریا ساتھیوں کے ساتھ ہائی روف میں فیکٹری پہنچا، 20 سے 25 منٹ بعد زبیر چریانے بتایا کام ہوگیا۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے سے قبل حماد صدیقی کو آگ لگانے سے پہلے آگاہ کردیا تھا، حماد صدیقی نے کام ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں، ایم این ایز اور دیگر کو فیکٹری پہنچنے کا حکم دیا، رؤف صدیقی نے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کرایا تاکہ ایم کیوایم پر الزام نہ آئے۔ سندھ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد بلدیہ کیس کے مفرور ملزمان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔واضح رہے کراچی میں بلدیہ کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں 2012 میں آتشزدی کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 250 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…