جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

37اراکین پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے رابطے،ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان اور صحافی ارشد شریف نے بیان ریکارڈ کرادیا ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی راکین کے کالعدم جماعتوں سے تعلق کے حوالے سے نگرانی کیلئے تیار کردہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی مبینہ 37 اراکین کی فہرست کی تحقیق کرنے والی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے خبر دینے والے صحافی ارشد شریف اور ڈائریکٹر جنرل آئی بی آفتاب سلطان نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا آئی بی کے ڈائریکٹر نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے فہرست کو جعلی قرار دیدیا۔خیال رہے کہ رواں سال

ستمبر میں صحافی ارشد شریف نے اپنے ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے پاناماکیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دینے سے چند ہفتے قبل 10 جولائی کو آئی بی کو 37 راکین اسمبلی کے خلاف مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے رابطے کی تفتیش کی ہدایت کی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں اپنے ہی اراکین اور وزرا کی جانب سے اس خبر کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم آئی بی کی جانب سے اس خبر کو مسترد کردیا گیا تھا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسمبلی کے فلور پر اس فہرست میں شامل تمام اراکین کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبر جعلی ہے۔منگل کو اجلاس کے دور ان ڈائریکٹر آئی بی اور صحافی کی جانب سے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان جمع کرادیا گیا۔قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین رانا افضل نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی بی کا موقف تھا کہ اراکین پارلیمنٹ سے متعلق خط جعلی ہے اور اس پر نمبرنگ بھی جعلی ہے جبکہ اس خط کو آئی بی نے جاری نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی بی نے کہا کہ بیورو کو اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔رانا افضل نے کہا کہ کمیٹی نے تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد حتمی سفارشات دی جائیں گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی بی کی درخواست پر اجلاس کو ان کیمرا رکھا گیا تھا اور فریقین کو سننا تھا اس لیے اجلاس ان کیمرہ کردیا گیا۔صحافی ارشد شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے انھیں خبر کی تصدیق آئی بی کے عہدیداروں سے ہوئی۔انہوکں نے کہا کہ آئی بی کے مبینہ خط کی خود آئی بی نے تصدیق کی تھی ٗیہ خبر آئی بی کے دو افسران سے باقاعدہ تصدیق کے بعد جاری کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…