پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

37اراکین پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے رابطے،ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان اور صحافی ارشد شریف نے بیان ریکارڈ کرادیا ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی راکین کے کالعدم جماعتوں سے تعلق کے حوالے سے نگرانی کیلئے تیار کردہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کی مبینہ 37 اراکین کی فہرست کی تحقیق کرنے والی قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے خبر دینے والے صحافی ارشد شریف اور ڈائریکٹر جنرل آئی بی آفتاب سلطان نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا آئی بی کے ڈائریکٹر نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے فہرست کو جعلی قرار دیدیا۔خیال رہے کہ رواں سال

ستمبر میں صحافی ارشد شریف نے اپنے ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے پاناماکیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دینے سے چند ہفتے قبل 10 جولائی کو آئی بی کو 37 راکین اسمبلی کے خلاف مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے رابطے کی تفتیش کی ہدایت کی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں اپنے ہی اراکین اور وزرا کی جانب سے اس خبر کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم آئی بی کی جانب سے اس خبر کو مسترد کردیا گیا تھا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسمبلی کے فلور پر اس فہرست میں شامل تمام اراکین کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبر جعلی ہے۔منگل کو اجلاس کے دور ان ڈائریکٹر آئی بی اور صحافی کی جانب سے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان جمع کرادیا گیا۔قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین رانا افضل نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی بی کا موقف تھا کہ اراکین پارلیمنٹ سے متعلق خط جعلی ہے اور اس پر نمبرنگ بھی جعلی ہے جبکہ اس خط کو آئی بی نے جاری نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی بی نے کہا کہ بیورو کو اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔رانا افضل نے کہا کہ کمیٹی نے تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد حتمی سفارشات دی جائیں گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی بی کی درخواست پر اجلاس کو ان کیمرا رکھا گیا تھا اور فریقین کو سننا تھا اس لیے اجلاس ان کیمرہ کردیا گیا۔صحافی ارشد شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے انھیں خبر کی تصدیق آئی بی کے عہدیداروں سے ہوئی۔انہوکں نے کہا کہ آئی بی کے مبینہ خط کی خود آئی بی نے تصدیق کی تھی ٗیہ خبر آئی بی کے دو افسران سے باقاعدہ تصدیق کے بعد جاری کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…