پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

فیض آباد دھرناکب ختم ہو گا، عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا، لال مسجد اور سانحہ ماڈل ٹائون وزیر داخلہ کا اہم اعلان، کیا ہونے جا رہا ہے

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا ختم نہ کرائے جانے پرچیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ 4 سے 5 ہزار افراد تمام شہریوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں، لاکھوں افراد کے حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے ، اصل مسئلہ صرف امن و امان کا ہے۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے

اسلام آباد میں جاری دھرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا۔ عدالت کی جانب سے طلبی پر وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو فاضل جج نے سوال کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہوسکا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیا جارہا ہے تاہم طاقت کے استعمال سے خونریزی کا خدشہ ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے دھرنا پرامن طریقے سے ختم کرانے کے لئے 48 گھنٹے کی مہلت کی استدعا کی جس پر عدالت نے آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کردیے۔سماعت کے دوران فاضل جج نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا، جس پر ابھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی قیادت مظاہرین سے خود مذاکرات کر رہی ہے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ 4 سے 5 ہزار افراد تمام شہریوں کے حقوق سلب کر رہے ہیں اور وہ کیا مطالبہ لے کر بیٹھے ہیں اس سے متعلق سوچنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام نہیں، اصل مسئلہ صرف امن و امان کا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیے کہ لاکھوں افراد کے حقوق سلب ہونے نہیں دیں گے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو کھلی عدالت میں نہیں بتائی جاسکتیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کہنا ہے اوپن کورٹ میں کہیں، آپ کو یہی کہنا ہوگا کہ مظاہرین کے پاس ہتھیار ہیں اور پتھر بھی جمع کر رکھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…