جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کیخلاف طاقت کااستعمال ،جماعۃ الدعوۃ نے حکومت کوممکنہ ردعمل سے خبردارکردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)جماعۃ الدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کیخلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرے‘ اس سے ملک میں انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ختم نبوت قانون میں ترمیم کرنے والے پوری پاکستانی قوم کے مجرم ہیں۔قومی اسمبلی میں ختم نبوت قانون کی بحالی قابل تحسین اقدام ہے

لیکن قانون میں ترمیم کرنے والے وزیر قانون زاہد حامد اور دیگر ذمہ داران کو فوری برطرف کر کے قرارواقعی سزا دی جائے۔انہیں سزائیں نہ ملنے سے 20کروڑ پاکستانیوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔اس سلسلہ میں کسی قسم کی غفلت یا مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوششیں ایک منظم سازش کے تحت کی گئیں۔ ایسی ناپاک جسارت کرنے والوں کو بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ چھپانے کی کوششیں اسلام دشمنی کے مترادف ہیں۔ ملک میں لبرل ازم اور سیکولر ازم پروان چڑھانے کی خاطر ایسی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ سینئر سیاستدان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تحقیقاتی رپورٹ تیار کئے جانے کے باوجود اسے سامنے کیوں نہیں لایا جارہا؟۔ حکومت جان بوجھ کر اس رپورٹ کو کیوں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟۔ عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے پہلے سے بنے ہوئے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔عبدالرحمن مکی نے کہاکہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کے حوالہ سے تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہ آنے سے پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔

پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا ملک ہے۔ جن لوگوں نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی ان کی نشاندہی کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ قوم اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دشمنان اسلام کی شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح پاکستان میں ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت کے حوالہ سے قوانین کی بھی انہیں سخت تکلیف ہے۔ بیرونی قوتوں کی سرپرستی میں چلنے والی بہت سی این جی اوز یہاں غیر قانونی سرگرمیاں پروان چڑھا رہی ہیں اور اسلامی قوانین کے خاتمہ کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ ایسی ملک دشمن این جی اوز کا پاکستان سے بوریابستر گول کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت قانون کا بھرپور دفاع کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…