جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی ،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت 30ویں مرتبہ ملتوی کر دی گئی اور اب سماعت کے لیے 2جنوری 2018 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم کے مطابق نظرثانی کی اپیلیں فاٹا ٹر یبیونل میں جون 2014 سے دائر کی گئی ہیں اور اب تک 30 مرتبہ پیشیاں مقرر کی گئی ہیں۔

نظرثانی کی درخواست پر سماعت فاٹا ٹریبیونل میں جمعرات کو ہونا تھی لیکن سرکاری وکیل پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی۔شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکاری وکیل کیوں پیش نہیں ہوئے لیکن اب یہ سماعت 2جنوری 2018 کو ہو گی۔قمر ندیم کے مطابق ٹریبونل فریقین کو موقع دیتے ہیں تاکہ دونوں جانب کے وکلا موجود ہوں پھر سماعت شروع کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا اگر دونوں جانب کے وکیل موجود ہوں اور باقاعدہ سماعت شروع کر دی جائے تو چند دنوں میں ہی اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ قمر ندیم نے بتایا فاٹا ٹریبیونل قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے مطابق سپریم عدالت کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے وہ اس کے علاوہ اور کہیں اپیل نہیں کر سکتے۔قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انہوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی تھی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی جبکہ ان کا موقف تھا کہ شکیل آفریدی کو جو 33 سال کی سزا سنائی گئی ہے اسے ختم کیا جائے۔اس درخواست میں انہوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور کمشنر پشاور ڈویژن کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔قمر ندیم کے مطابق سرکار کی جانب سے بھی کمشنر کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ شکیل آفریدی کی 33 سال کی سزا برقرار رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…