اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

کالاباغ ڈیم،سندھ حکومت نے انتہائی قدم اُٹھالیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)  کالا باغ ڈیم کے مخالفین کو بھارتی ایجنٹ کہنے سندھ اسمبلی نے جمعرات کو وفاقی وزیر برائے آبی وسائل جاوید علی شاہ کے خلاف قرار داد مذمت اتفاق رائے سے منظور کر لی اور مطالبہ کیا ہے کہ جاوید علی شاہ سندھ سمیت دیگر چھوٹے صوبوں کے عوام سے معافی مانگیں ۔ یہ قرار داد سینئر وزیر خوراک و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو کی طرف سے پیش کی گئی ۔ قرار داد میں کہا گیا کہ ”یہ اسمبلی کالا باغ ڈیم کی

تعمیر کو بار بار مکمل طور پر مسترد کرنے کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتی ہے ۔ وفاقی وزیر جاوید علی شاہ نے کالا باغ ڈیم کے مردہ گھوڑے کو سینیٹ میں دوبارہ زندہ کرنے کی جو کوشش کی ہے ، وہ قابل مذمت ہے ۔ کالا باغ ڈیم کے مخالفین کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے کے ان کے ریمارکس سے ان کی بیمار ذہنیت کا پتہ چلتا ہے اور یہ اسمبلی جاوید علی شاہ کے انتہائی قابل اعتراض رویہ کی سخت مذمت کرتی ہے ۔ ” قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ کچھ لوگوں نے پاکستان ٹوٹنے سے سبق حاصل نہیں کیا ہے ۔ کالا باغ ڈیم کے مخالفین کا بھارتی ایجنٹ کہنے والے نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ کیوں نہیں کہتے ، جو نریندر مودی کو دعوتیں دے کر بلاتے ہیں اور کلبھوشن یادیو کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون ہے کہ دریاں کے آخری سرے پر رہنے والوں سے پوچھے بغیر کوئی ڈیم نہیں بن سکتا ۔ ہم سے پوچھے بغیر کالا باغ ڈیم بنانے کا سوچا بھی نہ جائے ۔ سندھ سمیت تین صوبوں کی اسمبلیاں کئی بار کالا باغ ڈیم کو مسترد کر چکی ہیں اور کالا باغ ڈیم کے خلاف قرار دادیں منظور کر چکی ہیں ۔ جاوید علی شاہ کے ریمارکس سے ان تین صوبوں کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ وہ غیر مشروط طور پر معافی مانگیں ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…