اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

عدالتوں میں انصاف نہ ملے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے، پاکستان میں ڈاکٹر تاجر بن چکے ہیں، مولانا طارق جمیل کا خصوصی خطاب

datetime 27  اکتوبر‬‮  2017 |

فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف مبلغ اور نامور مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ عدالتوں میں انصاف نہ ملنے سے معاشرہ جنگل بن جاتا ہے ،جنت میں نوجوانوں کے سردار حضرت حسین علیہ السلام اگر یزید جیسے خودساختہ حکمران کی بعیت کر لیتے تو قیامت تک بدکردار اور بددیانت لوگوں کو حکمرانی کا جواز مل جاتا۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں ڈاکٹرتاجر بن چکے ہیں ‘تعلیمی ادارے تجارتی اڈوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں

اور بازار دھوکہ دہی ‘ سود اور بدیانتی کے مراکز بن چکے ہیں، جھوٹ‘ ظلم ‘ سود اور دھوکے کو ختم کرکے ملک کو پائیدار ترقی اورمعاشرے کو جنت نظیر بنانے میں اُستاد‘ علمائے دین کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔یونیورسٹی میں سینئر ٹیوٹر آفس کی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی ‘ قرأت و نعت کلب کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ غصہ ظالم پر آتا ہے کیونکہ مظلوم کی آہ اللہ کے عرش کو ہلا کر رکھ دیتی ہے لہٰذا اپنے معمولات سے جھوٹ‘ دھوکے اور ظلم کونکال باہر کرنے میں کسی مصلحت کوآڑے نہ آنے دیں۔ انہوں نے آبادی میں اضافے کو مسائل کی وجہ قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے اور قومیں آبادی میں اضافہ سے نہیں بلکہ جھوٹ‘ ظلم ‘ ملاوٹ اور دھوکے کی وجہ سے بھوک ‘غربت اور پستی کا شکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جاپا ن اور یورپی ممالک کی حکومتوں کو اپنا مستقبل اس لئے تاریک نظر آ رہا ہے کہ وہاں بوڑھوں کے مقابلہ میں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی آدھی سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی صلاحیتوں کو تعمیری سرگرمیوں کا حصہ بناکر ملک کو ترقی سے ہمکنار کیاجانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جب مالدار لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے تو غریبوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں

جبکہ عدالتوں میں انصاف نہ ملنے سے معاشرہ جنگل بن جاتا ہے لہٰذا ہمیں اسلامی معاشرے کو سچ‘ دیانتداری اور انسان دوستی کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معاملات میں دیانتداری ‘ انصاف اور انسان دوستی کو اپنا نصب العین بنالیں گے تو ہمارا ہرلمحہ عبادت قرار پائے گا۔انہوں نے کہاکہ علم محض ملازمتوں کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے میں شعور بیدار کرکے ترقی کے راستوں کو طے کرنے کیلئے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو حضرت علیؓ کی اس بات سے روشنی حاصل کرنے کی ہدایت کی کہ جس شخص نے مجھے ایک لفظ بھی سیکھا دیا میں اس کا غلام ہوگیاوہ جہاں چاہے مجھے فروخت کر دے لہٰذا طلبہ کو چاہئے کہ اپنے اساتذہ‘ والدین اور تمام بڑوں کی عزت و تکریم کو ہمیشہ مقدم جانیں۔ تقریب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقبال ظفر‘ سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر اطہر جاوید خاں‘ ڈاکٹر طاہر صدیقی اور یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ شریک تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…